عنوان: قرآن مجید کی کسی سورت کی تلاوت کرکے اسکا ثواب فوت شدہ مسلمان کو پہنچانا(107225-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! کیا کسی فوت شدہ شخص کے لیے میں سورۃ البقرہ، سورۃ الملک اور سورۃ یٰسین پڑھ سکتا ہوں؟ کیا فوت شدہ شخص کو اس کا فائدہ ہوگا ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیجئے۔

جواب: سورۃ الملک، سورۃ یٰسین، سورۃ البقرہ یا قرآن مجید کی کسی بھی سورت کی تلاوت کرکے اس کا ثواب کسی فوت شدہ مسلمان کو پہنچانا جائز ہے، ذیل میں چند احادیث بمع ترجمہ ذکر کی جاتی ہیں:

معجم طبرانی کی روایت ہے:

حضرت علاء بن اللجلاج کے صاحبزادے عبد الرحمن روایت کرتے ہیں:
قَالَ لِي أَبِي : یَا بنيَّ ! إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَلْحِدْنِي، فَإِذَا وَضَعْتَنِي فِي لَحْدِي، فَقُلْ : بِسْمِ اللَّہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللَّہ ِ، ثُمَّ سِنَّ عَلَیَّ الثَّرَی سِنًّا، ثُمَّ اقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِي بِفَاتِحَۃِ الْبَقَرَۃِ، وَخَاتِمَتِہَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُولُ ذَلِک".

ترجمہ: حضرت علاء بن اللجلاج کے صاحبزادے عبد الرحمن روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے فرمایا کہ جب میری موت ہوجائے، تو میرے لیے بغلی قبر بنانا، جب مجھے قبر میں رکھ دو تو "بسم اللہ و علی ملۃ رسول اللہ" کہنا، پھر میرے اوپر مٹی آہستہ سے ڈالنا، پھر میرے سر کے پاس سورہ بقرہ کا شروع اور اخیر پڑھنا، کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ہے۔

(المعجم للطبراني : رقم الحدیث: ۱۵۸۳۳)

دوسری حدیث

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اقْرَؤُوا (یسٓ )عَلَی مَوْتَاکُمْ".

ترجمہ: اپنے مُردوں پر سورہ ’’یسٓ‘‘ پڑھو ۔

(سنن کبری نسائي :۱۰۸۴۶، أبو داود۱۲۳، أحمد:۲۰۳۱۶،ابن حبان:۳۰۰۲، أبو داود طیالسي:۹۷۳، معجم طبراني کبیر:۱۶۹۰۴)

یہ حدیث اگر چہ ضعیف ہے، مگر ضعیف حدیث فضائل کے باب میں معتبر ہوتی ہے۔

تیسری حدیث

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے:

"إِذَا مَاتَ أَحَدُکُمْ فَلا تَحْبِسُوہُ وَأَسْرِعُوا بِہِ إِلَی قَبْرِہِ وَلْیُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِہِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، وَعِنْدَ رِجْلَیْہِ بِخَاتِمَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی قَبْرِہِ".

ترجمہ: جب تم میں سے کسی کی موت ہو جائے تو اس کو دیر تک نہ رکھو اور اس کی قبر کی جانب اس کو جلدی سے لے جاؤ اور قبر میں رکھ کر اس کے سر کے پاس سورہ فاتحہ اور پیروں کے پاس سورہ بقرہ کا اخیر حصہ تلاوت کیا جائے-

(طبراني:۱۳۴۳۸،شعب الإیمان:۸۸۵۴، کنز العمال:۴۲۳۹۰، الأمر بالمعروف للخلال:۲۴۵، القراء ۃ عند القبور للخلال:۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

و فی رد المحتار:

"وفی البحر من صام اوصلی اوتصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الاموات والاحیاء جازویصل ثوابہا الیہم عنداہل السنۃ والجماعۃ کذافی البدائع…وانہ لافرق بین الفرض والنفل اھ وفی جامع الفتاویٰ وقیل لایجوز فی الفرائض".

(ردالمحتار : ۶۶/۱)


"سواء کانت صلوٰۃ أو صوماً أو صدقۃً أو قراءۃ أو ذکراً أو طوافاً الخ".

(رد المحتار: کتاب الحج ، باب الحج عن الغیر، مطلب فیمن أخذ من عبادتہ شیئاً من الدنیا، ط: کراچی ۲/۵۹۵)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 196

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com