عنوان: والدہ، 1 بیٹا، سات بیٹیاں، تین بھائی اور دو بہنوں میں تقسیمِ میراث(107235-No)

سوال: محترم جناب مفتی صاحب ! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے واراثت کے مندرجہ ذیل مسئلے میں رہنمائی فرمادیں: ہماری والدہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیٹا، سات بیٹیاں، والدہ (نانی اماں)، تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ برائے مہربانی واراثت کی تقسیم میں ہر ایک کا حصہ بتادیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: مرحومہ کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کو چون (54) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے مرحومہ کی والدہ کو نو (9)، بیٹے کو دس (10) اور ہر ایک بیٹی کو پانچ (5) حصے ملیں گے، جبکہ مرحومہ کے بہن بھائیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

اگر فیصد کے اعتبار سے تقسیم کریں تو
والدہ کو %16.66 فیصد
بیٹے کو %18.51 فیصد
ہر ایک بیٹی کو %9.25 فیصد ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالی:

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ۔

وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ

(النساء، الایۃ 12/11)

کذا فی الدرمع الرد:

ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل".

(ج4، ص 774، سعید، کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 37

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com