عنوان: پیشگی نذر ادا کرنے کا حکم(7328-No)

سوال: ءمیں اگر نذر مانوں کہ اللہ تعالی نے مجھے شفایابی دی، تو میں نذر میں ایک گائے ذبح کروں گا اور شفایابی سے پہلے میں گائیں ذبح کردوں، تو کیا میری نذر ادا ہوجائے گی؟

جواب: اگر کسی بات کے ساتھ نذر کو مشروط کیا گیا ہو، تو بات پوری ہونے سے پہلے نذر کو ادا کرنا واجب نہیں ہے، لہذا اگر کوئی شخص شفایاب ہونے پر گائے ذبح کرنے کی نذر مانے اور شفایابی سے پہلے گائے ذبح کردے، تو اس کی نذر ادا نہیں ہوگی اور اس پر شفایاب ہونے کے بعد دوبارہ دوسری گائے ذبح کرنا واجب ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (کتاب النذر، 93/5، ط: سعید)
وإن کان معلقاً بشرط نحو أن یقول : إن شفی اللّٰہ مریض أو إن قدم فلان الغائب فللّٰہ علی أن أصوم شہرًا أو أصلی رکعتین أو أتصدق بدرہم ونحو ذلک فوقتہ وقت الشرط فما لم یوجد الشرط لا یجب بالإجماع ۔ولو فعل ذلک قبل وجود الشرط یکون نفلاً لأن المعلق بالشرط عدم قبل وجود الشرط۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 376
pasihgi nazar ada karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.