عنوان: کیا "بحرمۃ فلاں" یا "بحق فلاں" کہہ کر دعا کر سکتے ہیں؟(107337-No)

سوال: اگر ہم "بحرمۃ فلاں" یا "بحق فلاں" کہہ کر کسی بزرگ کے وسیلہ سے دعا کرنا چاہیں، تو کیا ان الفاظ سے دعا کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی نے عقیدہ کی خرابی کے اندیشہ سے "بحرمۃ فلاں" یا "بحق فلاں" سے دعا کرنے کو مکروہ لکھا ہے، لہذا اگر عقیدہ کے خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو، تو "بحرمۃ فلاں" یا "بحق فلاں" کہہ کر وسیلہ کے طور پر دعا کرنا جائز ہوگا اور اگر ان الفاظ سے دعا کرنے کی صورت میں عقیدہ کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، تو مذکورہ الفاظ سے دعا کرنا شرعا جائز نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی القرآن الکریم:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۔

(سورۃ المائدہ : ۳۵)

وفی سنن ابن ماجۃ:

عن ابی سعید الخدریؓ قال قال رسول ﷲﷺ من خرج من بیتہ الی الصلوۃ فقال اللھم انی اسألک بحق السائلین علیک واسألک بحق ممشای ھذا …… الی آخر الحدیث۔

وعلی ھامشہ: بحق السائلین اعلم انہ لاحق لاحد فی الحقیقۃ علی ﷲ تعالی ولایجب علیہ شیٔ عند اھل السنۃ وانما ھو رأی المعتزلۃ الاان لہ معنیین احدھما اللزوم والثانی الالتزام فالاول کما قلنا والثانی تفضل منہ واحسان حیث التزم لنا باعمالنا ما لسنا اھلا لذلک فھوالجواد والمنعم یفضل علی عبادہ بما یشاء۔

(باب المشي إلى الصلاة، ص: 56)

وفی الدر المختار مع رد المحتار:

(و) كره قوله (بحق رسلك وأنبيائك وأوليائك) أو بحق البيت لأنه لا حق للخلق على الخالق تعالى

(قوله وكره قوله بحق رسلك إلخ)۔۔۔۔۔۔وفی التاتارخانیۃ وجاء فی الآثار مادل علی الجواز۔

(ج: 6، ص: 397، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 299
kia "بحرمۃ فلاں"ya "بحق فلاں" keh kar dua karsaktay hain ?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.