عنوان: میاں بیوی کا زندگی میں اپنی قبر بنوانا(107396-No)

سوال: مفتی صاحب! میاں بیوی کا مرنے سے پہلے اپنے لیے قبر بنوانا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ زندگی میں اپنے لیے قبر تیار کرکے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر اپنی ذاتی ملکیت کی جگہ قبر بنائی جائے، عام مسلمانوں کیلئے وقف کی ہوئی جگہ کو اپنے لیے روک کر رکھنا درست نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی اعلاء السنن:

مات أبوسفیان بالمدینۃ، وصلی علیہ عمر بن الخطابؓ، وقبر في دار عقیل بن أبي طالب بالبقیع، وہو الذي حفر قبر نفسہ قبل أن یموت بثلاثۃ أیام۔

( أبواب الجنائز، باب استحباب غرز الجر یدۃ الرطبۃ علی القبر، دار الکتب العلمیۃ، 8/302)

کما فی التاتارخانیہ:

من حفر قبراً لنفسہ فلا بأس بہ ویؤجرعلیہ، ہکذا عمل عمر بن عبد العزیز والربیع بن خیثم وغیرہم۔

( کتاب الصلاۃ،الفصل الثاني والثلاثون في الجنائز، نوع آخر في القبر والدفن، 3/76 رقم:3749)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 174

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com