سوال:
السلام عليكم، کیا معتکف اذان دینے کے لئے مسجد کی حدود سے باہر نکل سکتا ہے؟
تنقیح :
محترم آپ اس بات کی وضاحت کریں کہ معتکف اذان دینے کے لیے مسجد کی حدود سے باہر کیوں نکلنا چاہتا ہے، کیونکہ آج کل اسپیکر مسجد کی حدود کے اندر ہی لگا ہوتا ہے؟
نیز کیا اس مسجد میں باقاعدہ کوئی مؤذن مقرر نہیں ہے کہ معتکف کو اذان دینے کی ضرورت پیش آتی ہو؟
برائے مہربانی مسئلہ کی صورت واضح کریں۔
اس وضاحت کے بات آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکتا ہے۔
جواب تنقیح:
اسپیکر مسجد کی حدود سے باہر ہے اور آج کل لاک ڈاؤن کی وجہ سے موذن مسجد نہیں آ سکتا۔
جواب: معتکف کے لیے اذان دینے کی غرض سے مسجد کے حدود سے باہر نکلنا جائز ہے، اس سے معتکف کا اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔
واضح رہے کہ اگر معتکف مؤذن نہ ہو اور اس کے علاوہ باقاعدہ کوئی مؤذن موجود ہو، تو ایسے شخص کے لیے اذان دینے کے لیے مسجد کے حدود سے باہر نکلنا بہتر نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوی الھندیۃ: (212/1، ط: دار الفکر)
ولو صعد المئذنة لم يفسد اعتكافه بلا خلاف، وإن كان باب المئذنة خارج المسجد كذا في البدائع والمؤذن وغيره فيه سواء هو الصحيح هكذا في الخلاصة وفتاوى قاضي خان۔
کذا فی فتاوی بنوری تاؤن، رقم الفتوی: 144109202291
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی