عنوان: کیا قبروں پر چڑھی چادروں کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟(107556-No)

سوال: مجھے یہ تو معلوم ہے کہ قبروں پر چادریں نہیں چڑھانی چاہیے، لیکن یہ بتادیں کہ اگر کوئی شخص قبروں پر چڑھی چادروں کی چوری کرے، تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟

جواب: واضح رہے کہ چوری کرنے پر ہاتھ اس وقت کاٹا جاتا ہے، جبکہ مال محفوظ کو چرایا گیا ہو، لہذا اگر کوئی شخص قبروں پر چڑھی چادروں کی چوری کرے، تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ اس نے غیر محفوظ مال کو چرایا ہے، البتہ جنایت کامل نہ ہونے کی وجہ سے ایسے چوروں کو یونہی نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ حاکمِ وقت اپنے صوابدید کے مطابق ان پر (مثلا مار پٹائی اور جیل میں بند کرکے) تعزیر (سزا) جاری کر سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الھندیۃ:

وھی فی الشرع اخذ العاقل البالغ نصابا محرزا او ماقیمۃ نصاب ملکا للغیر لاشبھۃ لہ فیہ علی وجہ الخفیۃ۔

(ج: 2، ص: 170، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 117

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com