سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب ! ہمارے گھر میں اللہ کے فضل و کرم سے بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے، میں اس کا نام عبدالرب رکھنا چاہتا ہوں، براہ کرم آپ رہنمائی فرمائیں کہ کیا عبدالرَّب نام رکھ سکتے ہیں، اس میں کوئی ممانعت تو نہیں ہے؟
جواب: "رب" اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ (مبارک ناموں) میں سے ہے، اور رب کا معنی مالک، سردار، پرورش کرنے والا، پالنے والا وغیرہ کے آتے ہیں، لہذا لفظ "الرَّب" کی طرف لفظ "عبد" کی نسبت کرکے عبد الرَّب (AbdulRabb)نام رکھنا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث: 4955، ط: دار ابن حزم)
عن أبي الدرداء قال: قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تُدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم فأحسنوا أسمائکم․
مصباح اللغات: (المادۃ: رب، ص: 272، ط: المصباح)
الرب : مالک، سردار، درست کرنے والا، پرورش کرنے والا، اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی