عنوان: دوائی وغیرہ کے ذریعہ عورت کی چھاتی میں اترنے والا دودھ لے پالک بچہ کو پلانے سے بچہ محرم بن جائے گا یا نہیں؟(107743-No)

سوال: مفتی صاحب ! میری بہن بے اولاد ہے، بچہ لے کر پالنا چاہتی ہے، لیکن محرم نامحرم کا مسئلہ ہے، ایک شخص نے مشورہ دیا ہے کہ مصنوعی طریقے سے اپنا دودھ پیدا کر کے مسئلہ حل کر لیں، آپ کی اس بارے میں رائے جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مصنوعی طریقی سے دودھ آجائے اور وہ بچہ کو پلا دیا جائے، تو کیا وہ بچہ محرم بن جائے گا؟

جواب: مصنوعی طریقہ (دوائیاں استعمال کرنے اور علاج وغیرہ کرانے کے ذریعہ) سے اگر واقعی دودھ اتر آئے، اور بچہ کو پلا دیا جائے، تو اس سے رضاعت ثابت ہو جائے گی، اور وہ بچہ آپ کی بہن کا رضاعی بیٹا بننے کی وجہ سے محرم بن جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی المشکوٰۃ المصابیح:

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يحرم من الْولادَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

(رقم الحدیث:3161)

وکذا فی الدر المختار مع الرد المحتار:

أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة، فهي سبعة۔

(ج:3، ص:28، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ط:سعید )

کذا فی فتاویٰ جامعہ بنوری تاؤن:

(رقم الفتوی:144108201838)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 218

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Fosterage

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com