عنوان: اقرأ، لائبہ، لاعبہ اور بریرہ نام رکھنا(107765-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا "اقرا، لائبہ اور بریرہ" نام رکھنے صحیح ہیں؟ نیز ان کے معنی بھی بتادیں۔

جواب: لفظ "اقرا" امر کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں "پڑھ"، عربی گرامر کے حساب سے نام رکھنے کے اعتبار سے اس لفظ کا کوئی خاص معنی نہیں بنتا، لہذا بہتر یہ ہے کہ اس نام کے بجائے صحابیات رضوان اللہ تعالیٰ علیھن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ دیا جائے۔

لفظ "لائبہ" کا مطلب ہے "پیاسی"، معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنا اچھا نہیں ہے، اور اگر یہ نام "عین" کے ساتھ "لاعبہ" پڑھا جائے، تو اس کا مطلب ہے "کھیلنے والی"، معنی کے اعتبار سے بچی کا یہ نام رکھ سکتے ہیں۔

لفظ "بریرۃ" صحابیہ کا نام ہے، اور اس کے معنی "نیک عورت" ہے، یہ نام لڑکیوں کے لئے رکھنا درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال الامام ابو داؤد فی سننه:

عن أبي الدرداء قال: قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تُدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم فأحسنوا أسمائکم․

(رقم الحدیث:4955، دارابن حزم)

کذا فی القاموس الوحید:

بَرَّ۔۔۔بِراً :نیک ہونا۔

(ص: 156، ط: ادارہ اسلامیات)

و فیہ ایضاً:

قرأ الکتاب : پڑھنا۔

(ص: 1290 ط: ادارہ اسلامیات)

و فیہ ایضاً:

لعب یلعب لعباً: کھیلنا۔

(ص: 1475، ط: ادارہ اسلامیات)

و فیہ ایضاً:

لاب الرجل: پیاسا ہونا۔

(ص: 1505، ط: ادارہ اسلامیات)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 63

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com