عنوان: قبر کی دیکھ بھال اور پانی چھڑکاؤ کرنے کا حکم(107797-No)

سوال: مفتی صاحب ! والد صاحب کی قبر کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی اور اس پر پانی کا چھڑکاؤ وغیرہ کروانے کا کیا حکم ہے ؟ کیا یہ سب نہ کرنے پر بندہ گناہ گار ہوگا؟

جواب: تدفین کے بعد اور بعد میں قبر کی حفاظت کے لیے قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کرنا مستحب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کرنا ثابت ہے، اور قبر کی حفاظت کی ضرورت صرف اس وقت تک ہے، جب تک میت مٹی نہیں ہوجاتی، میت کے مٹی ہو جانے کے بعد قبر کی حفاظت کی ضرورت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الحدیث النبوی:

عن جعفر ابن محمد عن أبیہ مرسلاً أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم حثی علی المیت ثلاث حثیات بیدیہ جمیعاً وأنہ رش علی قبر ابنہ إبراہیم ووضع علیہ حصباء۔

(أخرجہ البغوي في شرح السنۃ 401/5 رقم: 1515)

وفي حدیث اٰخر:

وعنہ قال رش قبر النبي صلى الله عليه وسلم وکان الذي رش الماء علی قبرہ بلال بن رباح بقربۃ بدأ من قبل رأسہ حتی انتہیٰ إلیٰ رجلیہ۔

(رواہ البیہقي في دلائل النبوۃ، مشکوٰۃ المصابیح 148-149، مرقاۃ المفاتیح 167/4 رقم: 1710)

کما فی الھندیۃ:

ویسنم القبر قدر الشبر ولایربع ولا یجصص ولا بأس برش الماء علیہ ویکرہ أن یبنی علی القبر۔

(ج:1، ص:166)

کذا فی الشامیۃ:

لابأس برش الماء علیہ حفظاً لترابہ عن الاندراس بل ینبغی ان یندب لانہٗ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فعلہٗ بقبر سعد رضی اللّٰہ عنہ کما رواہ ابن ماجۃ وبقبر ولدہ ابراہیم کما رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ وامر بہ فی قبر عثمان بن مظعون رضی اللّٰہ عنہ کما رواہ البزار الخ۔

(ج1، ص601، ط: نعمانیہ)

کذا فی احسن الفتاوی: ج:4، ص:200

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 186

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com