سوال:
اگر میت کو غسل دے دیا جائے اور پھر اس سے نجاست نکلے، تو کیا اسے دوبارہ غسل دینا پڑے گا؟
جواب: اگر میت کو غسل دینے کے بعد اس سے نجاست نکلے، تب بھی اس کے لئے پہلے والا غسل کافی ہوگا اور اسے دوبارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ صرف اس کی نجاست والی جگہ کو دھو لیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (197/2، ط: دار الفکر)
ولا یعاد غسلہ ولا وضوء ہ بالخارج منہ لان غسلہ ما وجب لرفع الحدث لبقائہ بالموت بل لتنجسہ بالموت کسائر الحیوانات الدمویۃ الا ان المسلم یطھر بالغسل کرامۃ لہ وقد حصل بحر۔
(قولہ وقد حصل) ای الغسل وبطروالنجاسۃ بعدہ لایعاد بل یغسل موضعھا۔
الفتاوی الھندیۃ: (158/1، ط: دار الفکر)
ویمسح بطنہ مسحاً رفیقاً تحرزاً عن تلویث الکفن فان خرج منہ شیٔ غسلہ ولا یعید غسلہ ولا وضوءہ ثم ینشفہ بثوب کیلا تبتل اکفانہ الخ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی