عنوان: نجاست نکلنے کی صورت میں کیا میت کو دوبارہ غسل دینا پڑے گا؟(107808-No)

سوال: اگر میت کو غسل دے دیا جائے اور پھر اس سے نجاست نکلے، تو کیا اسے دوبارہ غسل دینا پڑے گا؟

جواب: اگر میت کو غسل دینے کے بعد اس سے نجاست نکلے، تب بھی اس کے لئے پہلے والا غسل کافی ہوگا اور اسے دوبارہ غسل دینے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ صرف اس کی نجاست والی جگہ کو دھو لیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الدر المختار مع رد المحتار:

ولا یعاد غسلہ ولا وضوء ہ بالخارج منہ لان غسلہ ما وجب لرفع الحدث لبقائہ بالموت بل لتنجسہ بالموت کسائر الحیوانات الدمویۃ الا ان المسلم یطھر بالغسل کرامۃ لہ وقد حصل بحر۔

(قولہ وقد حصل) ای الغسل وبطروالنجاسۃ بعدہ لایعاد بل یغسل موضعھا۔

(ج: 2، ص: 197، ط: دار الفکر)

وفی الھندیۃ:

ویمسح بطنہ مسحاً رفیقاً تحرزاً عن تلویث الکفن فان خرج منہ شیٔ غسلہ ولا یعید غسلہ ولا وضوءہ ثم ینشفہ بثوب کیلا تبتل اکفانہ الخ۔

(ج: 1، ص: 158، ط: دار الفکر)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 145

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com