عنوان: جانور کے سینگ جڑ سے کاٹنا، اور ایسے جانور کی قربانی کا حکم(107884-No)

سوال: السلام عليكم، مفتی صاحب ! براہ کرم ان مسئلوں کی وضاحت فرمادیں: قربانی کے جانوروں کے سینگ جڑ سے کاٹنے کی اجازت ہے یا یہ عیب میں آئے گا اور قربانی نہیں ہوگی؟ اسی طرح پیدائش کے 15 سے 20 دن میں ایک ٹیوب لگائی جاتی ہے، اس سے سینگ نہیں اگتے ہیں، کیا یہ عیب میں آئے گا اور قربانی نہیں ہوگی؟ جزاک الله خیرا

جواب: یاد رہے کہ بلا ضرورت جانور کے سینگ جڑ سے کاٹنا، اور جانور کو تکلیف دینا شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ کسی مصلحت یا مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ میں جس جانور کے سینگ پیدائشی طور پر نہ ہوں، یا کسی خارجی عمل کے ذریعے سینگ نکلنے سے روک دیئے گئے ہوں، تو اس جانور کی قربانی درست ہے، البتہ جس جانور کے سینگ نکلنے کے بعد جڑ سے کاٹ دئیے گئے ہوں، اس کی قربانی صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ سینگ کاٹنے کی وجہ سے اس جانور کے دماغ پر کوئی اثر نہ پڑا ہو، اور اس کا زخم بھی ٹھیک ہوگیا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال فی رد المحتار:

(قوله وقيدوه) أي جواز خصاء البهائم بالمنفعة وهي إرادة سمنها أو منعها عن العض بخلاف بني آدم فإنه يراد به المعاصي فيحرم أفاده الأتقاني عن الطحاوي.

(ج: 6، ص: 388)

کذا فی رد المحتار:

قوله: ويضحي بالجماء هي التي لا قرن لها خلقة، و كذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر المخ لم يجز. قهستاني. و في البدائع: إن بلغ الكسر المشاش لايجزي، و المشاش رؤس العظام مثل الركبتين و المرفقين۔

(ج: 6، ص: 323، ط: ایچ ایم سعيد)

کذا فی الفتاوی العالمگیریہ:

و يجوز بالجماء التي لاقرن لها و كذا مكسورة القرن، كذا في الكافي. وإن بلغ الكسر المشاش لايجزيه، و المشاش رؤس العظام مثل الركبتين و المرفقين، كذا في البدائع۔

(ج: 5، ص: 297، ط: مکتبہ رشیدیہ)

کذا فی فتاویٰ جامعہ بنوری تاؤن:

فتوی نمبر : 143908200070

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 480
janwar kay seeng jar se kaatnaa or aese janwar kio qurbani ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.