عنوان: قربانی کے لیے جانور خریدنے کی تفصیل/ ایک مہنگے جانور کے بجائے دو مناسب جانور خریدنے کا شرعی حکم(107896-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت جی ! جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مہنگے سے مہنگا خوبصورت جانور منڈی میں آتے ہیں، مہنگے خوبصورت جانور خریدنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز یہ کہ کتنا زیادہ مہنگا جانور نہیں لینا چاہیے؟ کیونکہ بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ دو چار ہلکے کم خوبصورت جانور لینے چاہیں، نہ کہ مہنگے۔ براہ کرم آُ صحیح رہنمائی فرمادیں۔

جواب: قربانی کے لیے جانور خریدنے کے حوالے سے تفصیل ذیل میں ذکر کی جاتی ہے :

1- اگر ضرورت مند لوگ زیادہ ہوں تو زیادہ گوشت والا جانور افضل ہے، ورنہ ایسا جانور جو فربہ اور موٹا ہو، اور اس کی قیمت زیادہ اور گوشت عمدہ ہو، تو وہ افضل ہے۔

2- اگر بڑے جانور گائے وغیرہ کے ساتویں حصہ کی قیمت اور بکری کی قیمت برابر اور گوشت بھی برابر ہے تو بکری خریدنا افضل ہے، پھر بھیڑ کی قربانی بکری سے، مادہ کی قربانی نر سے افضل ہے۔

3- جس قربانی کی قیمت زیادہ ہو، وہ بہتر ہے اور اگر دو جانوروں کی قیمت برابر ہو، لیکن ایک کا گوشت زیادہ ہے تو یہی جانور بہتر اور افضل ہے۔

4- جس قیمت میں دو مناسب جانور خریدنا ممکن ہو، تو بہتر یہی ہے کہ اس قیمت میں ایک موٹا اور فربہ جانور خریدنے کے بجائے دو مناسب جانور ہی خریدے جائیں، کیونکہ دو واجبات کی ادائیگی بہرحال ایک واجب کی ادائیگی سے بہتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی سنن ابی داؤد :

- ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻣﻌﻴﻦ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺣﻔﺺ، ﻋﻦ ﺟﻌﻔﺮ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ، ﻗﺎﻝ: «ﻛﺎﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻳﻀﺤﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﻜﺒﺶ ﺃﻗﺮﻥ ﻓﺤﻴﻞ، ﻳﻨﻈﺮ ﻓﻲ ﺳﻮاﺩ، ﻭﻳﺄﻛﻞ ﻓﻲ ﺳﻮاﺩ، ﻭﻳﻤﺸﻲ ﻓﻲ ﺳﻮاﺩ۔

( باب ما یستحب من الضحایا، رقم الحدیث : 2796)

کذا فی الفتاوی الھندیۃ :

ﻭاﻟﻤﺴﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﺗﻜﻮﻥ اﻷﺿﺤﻴﺔ ﺃﺳﻤﻨﻬﺎ ﻭﺃﺣﺴﻨﻬﺎ ﻭﺃﻋﻈﻤﻬﺎ، ﻭﺃﻓﻀﻞ اﻟﺸﺎﺓ ﺃﻥ ﺗﻜﻮﻥ ﻛﺒﺸﺎ ﺃﻣﻠﺢ ﺃﻗﺮﻥ ﻣﻮﺟﻮء۔

(ج : 5، ص : 300، ط : دار الفکر)

کذا فی الدر المختار وردالمحتار :

الشاۃ افضل من سبع البقرۃ اذا ستویافی القیمۃ واللحم والکبش افضل من النعجۃ اذ استویا فیہما والانثیٰ من المعز افضل من التیس اذا استویاقیمۃً والانثیٰ من الابل والبقر افضل حاوی وفی الوہبانیۃ ان الانثیٰمن المعز افضل من الذکر اذا ستویا قیمۃ واللّٰہ اعلم۔

(ج : 6، ص :322، ط : دار الفکر)

وفی الفتاوی البزازیۃ :

وشراء شاتین بثلاثین افضل من شراء شاۃ بثلاثین۔

(ج :6، ص :309، ط : رشیدیہ)

کذا فی فتاوی محمودیہ : (ج : 17، ص : 236، ط : مکتبہ فاروقیہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 237
qurbani kay liye janwar khareednay ki tafseel aik mehengay janwar kay bajaye do munasib janwar khareednay ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.