عنوان: نمازِ جنازہ کے بعد اجتماعی دعا کرنا کیسا ہے؟(107957-No)

سوال: بعض ائمہ مساجد نمازِ جنازہ کے بعد مقتدیوں کو روک کر اجتماعی دعا کرتے ہیں، یہ اجتماعی دعا کرنا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ نمازِ جنازہ میں بھی میت کے حق میں دعا کی جاتی ہے اور آج کل نمازِ جنازہ کے بعد بعض ائمہ مساجد لوگوں کو اجتماعی دعا کرانے کا جو التزام کرتے ہیں، وہ نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ثابت ہے اور نہ ہی سلف صالحین رحمہم اللہ سے ثابت ہے، اور جو عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ثابت نہ ہو اور اسے دین سمجھ کر کیا جائے، وہ مردود اور قابلِ ترک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی صحیح المسلم:

عن سعد بن إبراهيم، قال: سألت القاسم بن محمد، عن رجل له ثلاثة مساكن، فأوصى بثلث كل مسكن منها، قال: يجمع ذلك كله في مسكن واحد، ثم قال: أخبرتني عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد»

(ج:3،ص:1343،ط:دار إحياء التراث العربي)

فی خلاصۃ الفتاویٰ:

لایقوم بالدعاء بعد صلوۃ الجنازۃ… الی ولا یقوم بالدعاء فی قرائۃ القرآن لاجل المیت بعد صلوۃ الجنازۃ وقبلھا الخ۔

(ج:1،ص:225)

وفی فتاویٰ سراجیہ:

لیس فی صلوۃ الجنازۃ دعاء موقت اذا فرغ من الصلوۃ لایقوم بالدعاء۔

(ص:23)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 240

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com