عنوان: نماز جنازہ کا شرعی حکم(107975-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کا جنازہ پڑھنا ہم پر فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ مسلمان کی نمازِ جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے، یعنی اگر بعض لوگ ادا کرلیں تو باقی لوگوں کا ذمہ بھی فارغ ہوجائے گا، لیکن اگر کسی نے بھی میت پر نماز جنازہ نہ پڑھی اور بغیر نماز جنازہ کے میت کو دفن کردیا گیا، تو جن لوگوں کو معلوم تھا، وہ سب نماز جنازہ چھوڑنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی بدائع الصنائع :

اما اﻷﻭﻝ: ﻓﺎﻟﺪﻟﻴﻞ ﻋﻠﻰ ﻓﺮﺿﻴﺘﻬﺎ ﻣﺎ ﺭﻭﻱ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: «ﺻﻠﻮا ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﺑﺮ ﻭﻓﺎﺟﺮ» ﻭﺭﻭﻱ ﻋﻨﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: «ﻟﻠﻤﺴﻠﻢ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﻠﻢ ﺳﺖ ﺣﻘﻮﻕ» ﻭﺫﻛﺮ ﻣﻦ ﺟﻤﻠﺘﻬﺎ ﺃﻧﻪ «ﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻰ ﺟﻨﺎﺯﺗﻪ» ﻭﻛﻠﻤﺔ ﻋﻠﻰ ﻟﻹﻳﺠﺎﺏ ﻭﻛﺬا ﻣﻮاﻇﺒﺔ اﻟﻨﺒﻲ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﻭﺃﺻﺤﺎﺑﻪ - ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻢ - ﻭاﻷﻣﺔ ﻣﻦ ﻟﺪﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻣﻨﺎ ﻫﺬا ﻋﻠﻴﻬﺎ، ﺩﻟﻴﻞ اﻟﻔﺮﺿﻴﺔ ﻭاﻹﺟﻤﺎﻉ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﻋﻠﻰ ﻓﺮﺿﻴﺘﻬﺎ ﺃﻳﻀﺎ ﺇﻻ ﺃﻧﻬﺎ ﻓﺮﺽ ﻛﻔﺎﻳﺔ ﺇﺫا ﻗﺎﻡ ﺑﻪ اﻟﺒﻌﺾ ﻳﺴﻘﻂ ﻋﻦ اﻟﺒﺎﻗﻴﻦ؛ ﻷﻥ ﻣﺎ ﻫﻮ اﻟﻔﺮﺽ، ﻭﻫﻮ ﻗﻀﺎء ﺣﻖ اﻟﻤﻴﺖ ﻳﺤﺼﻞ ﺑﺎﻟﺒﻌﺾ، ﻭﻻ ﻳﻤﻜﻦ ﺇﻳﺠﺎﺑﻬﺎ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﻭاﺣﺪ ﻣﻦ ﺁﺣﺎﺩ اﻟﻨﺎﺱ ﻓﺼﺎﺭ ﺑﻤﻨﺰﻟﺔ اﻟﺠﻬﺎﺩ، ﻟﻜﻦ ﻻ ﻳﺴﻊ اﻻﺟﺘﻤﺎﻉ ﻋﻠﻰ ﺗﺮﻛﻬﺎ ﻛﺎﻟﺠﻬﺎﺩ۔

(ج : 1، ص : 311، ط : دار الکتب العلمیۃ)

کذا فی حاشیۃ الطحطاوی :

اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻴﻪ ککفنہ ﻭﺩﻓﻨﻪ ﻭﺗﺠﻬﻴﺰﻩ "ﻓﺮﺽ ﻛﻔﺎﻳﺔ" ﻣﻊ ﻋﺪﻡ اﻻﻧﻔﺮاﺩ ﺑﺎﻟﺨﻄﺎﺏ ﺑﻬﺎ۔

ﻗﻮﻟﻪ: "ﻓﺮﺽ ﻛﻔﺎﻳﺔ":  ﺑﺎﻹﺟﻤﺎﻉ ﻓﻴﻜﻔﺮ ﻣﻨﻜﺮﻫﺎ ﻹﻧﻜﺎﺭﻩ اﻹﺟﻤﺎﻉ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺒﺪاﺋﻊ ﻭاﻟﻘﻨﻴﺔ ﻭاﻷﺻﻞ ﻓﻴﻪ ﻗﻮﻟﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: {ﻭﺻﻞ ﻋﻠﻴﻬﻢ} [ اﻟﺘﻮﺑﺔ: 103]
ﻭﻗﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: "ﺻﻠﻮا ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﺑﺮ ﻭﻓﺎﺟﺮ" ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﺮﺽ ﻛﻔﺎﻳﺔ ﻟﻘﻮﻟﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ : ﺻﻠﻮا ﻋﻠﻰ ﺻﺎﺣﺒﻜﻢ ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﺮﺽ ﻋﻴﻦ ﻣﺎ ﺗﺮﻛﻬﺎ ﻭﻷﻥ ﻓﻲ اﻹﻳﺠﺎﺏ ﺃﻱ اﻟﻌﻴﻨﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﺠﻤﻴﻊ اﺳﺘﺤﺎﻟﺔ ﻭﺣﺮﺟﺎ ﻓﺎﻛﺘﻔﻰ ﺑﺎﻟﺒﻌﺾ ﺣﻤﻮﻱ۔

(ج :1، ص :580، ط : دار الکتب العلمیۃ)

کذا فی فتاوی جامعہ بنوری تاؤن:
رقم الفتوی : 143909200491

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 241

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com