عنوان: گاڑی، کریانہ اسٹور اور کاشت کی زمین کے مالک پر قربانی کا شرعی حکم(107976-No)

سوال: السلام علیکم، مولانا صاحب! ہمارے اوپر ایک لاکھ تک قرض ہے اور مالکیت میں ایک گاڑی ہے، جو سات لاکھ کی ہوگی اور اپنا کریانہ اسٹور بھی ہے اور کچھ کاشت کے لیے زمین بھی ہے، کیا ہم پر قربانی واجب ہوگی؟

جواب: جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سے زائد اتنا سامان موجود ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو ایسے مرد و عورت پر قربانی واجب ہے۔

صورت مسئولہ میں قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد، گاڑی کی قیمت ( بشرطیکہ تجارت کی نیت سے خریدی ہو یا ضرورت سے زائد ہو)، تجارتی سامان اور اہل وعیال کی حوائج اصلیہ سے زائد زمین، اگر ان تینوں چیزوں یا ان میں سے بعض کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہو تو آپ پر قربانی واجب ہے، ورنہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی مختصر القدوری:

الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى عن نفسه وولده الصغار يذبح عن كل واحد منهم شاة أو يذبح بدنة أو بقرة عن سبعة

(ج: 1، ص: 208، ط: دار الکتب العلمیۃ)

کذا فی المحیط البرھانی:

ﻭﺷﺮﻁ ﻭﺟﻮﺑﻬﺎ اﻟﻴﺴﺎﺭ ﻋﻨﺪ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﺭﺣﻤﻬﻢ اﻟﻠﻪ، ﻭاﻟﻤﻮﺳﺮ ﻓﻲ ﻇﺎﻫﺮ اﻟﺮﻭاﻳﺔ ﻣﻦ ﻟﻪ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ، ﺃﻭ ﻋﺸﺮﻭﻥ ﺩﻳﻨﺎﺭا، ﺃﻭ ﺷﻲء ﻳﺒﻠﻎ ﺫﻟﻚ ﺳﻮﻯ ﻣﺴﻜﻨﻪ ﻭﻣﺘﺎﻉ ﻣﺴﻜﻨﻪ ﻭﻣﺘﺎﻋﻪ ﻭﻣﺮﻛﻮﺑﻪ ﻭﺧﺎﺩﻣﻪ ﻓﻲ ﺣﺎﺟﺘﻪ اﻟﺘﻲ ﻻ ﻳﺴﺘﻐﻨﻲ ﻋﻨﻬﺎ، ﻓﺄﻣﺎ ﻣﺎ ﻋﺪا ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﻣﺘﺎﻋﻪ ﺃﻭ ﺭﻗﻴﻘﻪ ﺃﻭ ... ﺃﻭ ﻣﺘﺎﻉ..... ﺃﻭ ﻟﻐﻴﺮﻫﺎ ﻓﺈﻧﻬﺎ.... ﻓﻲ ﺩاﺭﻩ.
ﻭﻓﻲ «اﻷﺟﻨﺎﺱ» ﺇﻥ ﺟﺎء ﻳﻮﻡ اﻷﺿﺤﻰ ﻭﻟﻪ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ ﺃﻭ ﺃﻛﺜﺮ ﻭﻻ ﻣﺎﻝ ﻏﻴﺮﻩ ﻓﻬﻠﻚ ﺫﻟﻚ ﻟﻢ ﺗﺠﺐ ﻋﻠﻴﻪ اﻷﺿﺤﻴﺔ، ﻭﻛﺬﻟﻚ ﻟﻮ ﻧﻘﺺ ﻋﻦ اﻟﻤﺎﺋﺘﻴﻦ، ﻭﻟﻮ ﺟﺎء ﻳﻮﻡ اﻷﺿﺤﻰ ﻭﻻ ﻣﺎﻝ ﻟﻪ ﺛﻢ اﺳﺘﻔﺎﺩ ﻣﺎﺋﺘﻲ ﺩﺭﻫﻢ ﻓﻌﻠﻴﻪ اﻷﺿﺤﻴﺔ۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﻓﻲ «اﻷﺟﻨﺎﺱ» : ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻋﻨﺪﻩ ﺣﻨﻄﺔ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ ﻳﺘﺠﺮ ﺑﻬﺎ، ﺃﻭ ﻣﻠﺢ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ، ﺃﻭ ﻗﺼﺎﺭ ﻋﻨﺪﻩ ﺻﺎﺑﻮﺕ ﺃﻭ ﺃﺷﻨﺎﻥ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ ﻓﻌﻠﻴﻪ اﻷﺿﺤﻴﺔ۔

(ج: 6 ، ص: 86 ، ط: دارالکتب العلمیة)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 295
gaari kiryana store or kaasht ki zameen kay maalik par qurbani ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.