عنوان: چودہ لاکھ کی مالیت کی تجارت کے مالک پر قربانی واجب ہونے کا حکم(107985-No)

سوال: السلام علیکم، ایک شخص کے پاس ٹینٹ کراکری کا سامان ہے، جس کی مالیت تقریباً چودہ لاکھ ہے، وہ سامان رینٹ پہ دیتا ہے، اس صورت میں اس پر قربانی کیا حکم ہوگا؟

جواب: جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سے زائد اتنا سامان موجود ہو، جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو ایسے مرد و عورت پر قربانی واجب ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کی ملکیت میں چودہ لاکھ کی مالیت کی تجارت کا سامان ہے، جو قربانی کے نصاب (ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت) سے زیادہ بے، لہذا آپ شرعی لحاظ سے صاحب نصاب ہیں اور آپ پر قربانی واجب ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

کذا فی مختصر القدوری:

الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى عن نفسه وولده الصغار يذبح عن كل واحد منهم شاة أو يذبح بدنة أو بقرة عن سبعة

(ج: 1، ص: 208، ط: دار الکتب العلمیۃ)

کذا فی المحیط البرھانی:

ﻭﺷﺮﻁ ﻭﺟﻮﺑﻬﺎ اﻟﻴﺴﺎﺭ ﻋﻨﺪ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﺭﺣﻤﻬﻢ اﻟﻠﻪ، ﻭاﻟﻤﻮﺳﺮ ﻓﻲ ﻇﺎﻫﺮ اﻟﺮﻭاﻳﺔ ﻣﻦ ﻟﻪ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ، ﺃﻭ ﻋﺸﺮﻭﻥ ﺩﻳﻨﺎﺭا، ﺃﻭ ﺷﻲء ﻳﺒﻠﻎ ﺫﻟﻚ ﺳﻮﻯ ﻣﺴﻜﻨﻪ ﻭﻣﺘﺎﻉ ﻣﺴﻜﻨﻪ ﻭﻣﺘﺎﻋﻪ ﻭﻣﺮﻛﻮﺑﻪ ﻭﺧﺎﺩﻣﻪ ﻓﻲ ﺣﺎﺟﺘﻪ اﻟﺘﻲ ﻻ ﻳﺴﺘﻐﻨﻲ ﻋﻨﻬﺎ، ﻓﺄﻣﺎ ﻣﺎ ﻋﺪا ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﻣﺘﺎﻋﻪ ﺃﻭ ﺭﻗﻴﻘﻪ ﺃﻭ ... ﺃﻭ ﻣﺘﺎﻉ..... ﺃﻭ ﻟﻐﻴﺮﻫﺎ ﻓﺈﻧﻬﺎ.... ﻓﻲ ﺩاﺭﻩ.
ﻭﻓﻲ «اﻷﺟﻨﺎﺱ» ﺇﻥ ﺟﺎء ﻳﻮﻡ اﻷﺿﺤﻰ ﻭﻟﻪ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ ﺃﻭ ﺃﻛﺜﺮ ﻭﻻ ﻣﺎﻝ ﻏﻴﺮﻩ ﻓﻬﻠﻚ ﺫﻟﻚ ﻟﻢ ﺗﺠﺐ ﻋﻠﻴﻪ اﻷﺿﺤﻴﺔ، ﻭﻛﺬﻟﻚ ﻟﻮ ﻧﻘﺺ ﻋﻦ اﻟﻤﺎﺋﺘﻴﻦ، ﻭﻟﻮ ﺟﺎء ﻳﻮﻡ اﻷﺿﺤﻰ ﻭﻻ ﻣﺎﻝ ﻟﻪ ﺛﻢ اﺳﺘﻔﺎﺩ ﻣﺎﺋﺘﻲ ﺩﺭﻫﻢ ﻓﻌﻠﻴﻪ اﻷﺿﺤﻴﺔ۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﻓﻲ «اﻷﺟﻨﺎﺱ» : ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻋﻨﺪﻩ ﺣﻨﻄﺔ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ ﻳﺘﺠﺮ ﺑﻬﺎ، ﺃﻭ ﻣﻠﺢ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ، ﺃﻭ ﻗﺼﺎﺭ ﻋﻨﺪﻩ ﺻﺎﺑﻮﺕ ﺃﻭ ﺃﺷﻨﺎﻥ ﻗﻴﻤﺘﻬﺎ ﻣﺎﺋﺘﺎ ﺩﺭﻫﻢ ﻓﻌﻠﻴﻪ اﻷﺿﺤﻴﺔ۔

(ج: 6 ، ص: 86 ، ط: دارالکتب العلمیة)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 204
chuda lakh ki maliat ki tijarat kay maalik par qurbani waajib honay ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.