عنوان: ایسی بکری کی قربانی کرنا جس کا دودھ استعمال کیا ہو(107994-No)

سوال: السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! رہنمائی فرمادیں کہ کیا ایسی بکری کی قربانی جائز ہے، جس کا ہم دودھ استعمال کرتے رہے ہیں، جبکہ پہلے قربانی کی نیت نہیں تھی، اور اب قربانی کی نیت کرلی ہے؟

جواب: جی ہاں ! مذکورہ بکری کی قربانی جائز ہے، البتہ جانور (بکری) قربانی کے لیے متعین کرنے کے بعد، اب اس کا دودھ استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

وفی القران الکریم:

وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ

(سورۃ النحل، آیت نمبر:5)

کذا فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

ولو اشترى شاة للأضحية فيكره أن يحلبها أو يجز صوفها فينتفع به لأنه عينها للقربة فلا يحل له الانتفاع بجزء من أجزائها قبل إقامة القربة فيها، كما لا يحل له الانتفاع بلحمها إذا ذبحها قبل وقتها ولأن الحلب والجز يوجب نقصا فيها وهو ممنوع عن إدخال النقص في الأضحية.

(ج5، ص78، فصل في بيان ما يستحب قبل التضحية وبعدها وما يكره، ط:دارالکتب العلمیة)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 120

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com