resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: روزہ رکھنے (سحری بند کرنے) کی دعا اور نیت

(802-No)

سوال: مفتی صاحب! ہم بچپن سے سحری بند کرنے کی دعا "وَبِصَومِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ'' پڑھتے آئے ہیں، اور سحر و افطار والے کارڈ پر بھی یہی دعا لکھی ہوتی ہے، اب ہمارے امام صاحب بول رہے ہیں کہ یہ دعا پڑھنا روایت سے ثابت نہیں ہے، براہ کرم آپ رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ دعا حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور اس دعا کو پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ وَ بِصَومِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ'' دعا نہیں بلکہ عربی میں نیت کے الفاظ ہیں اور یہ الفاظ حدیث سے ثابت نہیں ہیں، البتہ ان الفاظ کا معنی صحیح ہے، لہذا اگر کوئی سنت یا لازم سمجھے بغیر ان الفاظ میں سحری کی نیت کرلے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
نیز واضح رہے کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں، بلکہ مستحب ہے، لہذا دل میں صرف یہ ارادہ کرلینا کہ میں روزہ رکھ رہا ہوں یا رمضان المبارک میں سحری کھالی تو یہ بھی نیت کے قائم مقام ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (380/2، ط: دار الفکر)
والسنة أن يتلفظ بها ۔۔۔(قوله: أن يتلفظ بها) فيقول: نويت أصوم غدا أو هذا اليوم إن نوى نهارا لله عز وجل من فرض رمضان

مرقاة المفاتيح: (426/4، ط: دار الکتب العلمیة)
اما ما اشتھر علی الالسنة ’’اللهم لك صمت وبك آمنت وعليك توكلت وعلى رزقك أفطرت‘‘ فزیادة و بک امنت لا اصل له و ان کان معناہ صحیحا و کذا زیادة و علیک توکلت و لصوم غد نویت۔

الھندیة: (کتاب الصوم، الباب الاول، 195/1، ط: دارالفکر)
(وشرط) صحة الأداء النية والطهارة عن الحيض والنفاس كذا في الكافي والنهاية.
والنية معرفته بقلبه أن يصوم كذا في الخلاصة، ومحيط السرخسي. والسنة أن يتلفظ بها كذا في النهر الفائق. ثم عندنا لا بد من النية لكل يوم في رمضان كذا في فتاوى قاضي خان. والتسحر في رمضان نية ذكره نجم الدين النسفي، وكذا إذا تسحر لصوم آخر، وإن تسحر على أنه لا يصبح صائما لا يكون نية، ولو نوى من الليل ثم رجع عن نيته قبل طلوع الفجر صح رجوعه في الصيامات كلها كذا في السراج الوهاج، ولو قال نويت أن أصوم غدا إن شاء الله - تعالى - صحت نيته هو الصحيح كذا في الظهيرية.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

rozah rakhane (sahari band karne) ki dua روزہ رکھنے کی نیت, Prayer for fasting (stopping travel).

اسلام میں روزہ کی نیت اور سحری بند کرنے (افطار) سے قبل دعا کا اہتمام سنتِ نبوی ﷺ کا حصہ ہے۔ نیت وہ باطن کی قصد ہے جو انسان اپنے ذہن میں رکھتا ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھ رہا ہے۔ روزہ کی نیت مخصوص الفاظ پر منحصر نہیں ہے، بلکہ وہ دل کی خاموش قصد ہوتی ہے جو فجر سے پہلے رکھی جاتی ہے، جیسے: “میں اللہ تعالیٰ کے لیے کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں”۔ اسی طرح سحری بند کرنے کی دعا روزہ افطار سے پہلے کی جاتی ہے، جس سے مسلمان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ حدیث میں بھی سحری کے بارے میں دعا پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے، جس سے روزہ کے برکت اور قبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سحری بند کرنے کی دعا عموماً وہ دعا ہے جو روزہ افطار کے وقت پڑھی جاتی ہے، جیسے: اللهم لک صمت … یہ دعا اور نیت دونوں روزہ کو زیادہ معنی خیز اور روحانی بناتے ہیں۔

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Sawm (Fasting)