عنوان: نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنے کا حکم(108149-No)

سوال: مفتی صاحب ! نماز جنازہ کے بعد صفوں کو توڑ کر ضرورت کی بنا پر یا بغیر ضرورت کے اجتماعی دعا کرنا جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ نماز جنازہ درحقیقت خود دعا ہے، اس میں تیسری تکبیر کے بعد میت کے حق میں دعا کی جاتی ہے، اس لیے نماز جنازہ کے بعد الگ سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس عمل پر التزام نماز جنازہ میں زیادتی کرنے کے مشابہ ہے، اور یہ عمل قرآن وسنت صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں ہے، جس کی وجہ سے جنازہ کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا ممنوع اور بدعت ہے، البتہ اگر کوئی بغیر ہاتھ اٹھائے دل ہی دل میں دعا کرنا چاہے تو یہ جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی مرقاة المفاتیح :

وَلَا يَدْعُو لِلْمَيِّتِ بَعْدَ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الزِّيَادَةَ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ.

( باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا: ج:3، ص: 1213، ط: دار الفکر بیروت)

کذا فی المحیط البرھانی:

ﻭﻻ ﻳﻘﻮﻡ اﻟﺮﺟﻞ ﺑﺎﻟﺪﻋﺎء ﺑﻌﺪ ﺻﻼﺓ اﻟﺠﻨﺎﺯﺓ؛ ﻷﻧﻪ ﻗﺪ ﺩﻋﺎ ﻣﺮﺓ، ﻷﻥ ﺃﻛﺜﺮ ﺻﻼﺓ اﻟﺠﻨﺎﺯﺓ اﻟﺪﻋﺎء.

(ج:2، ص:205،ط دارالکتب العلمیہ)

کذا فی رد المحتار :

ﻓﻘﺪ ﺻﺮﺣﻮا ﻋﻦ ﺁﺧﺮﻫﻢ ﺑﺄﻥ ﺻﻼﺓ اﻟﺠﻨﺎﺯﺓ ﻫﻲ اﻟﺪﻋﺎء ﻟﻠﻤﻴﺖ ﺇﺫ ﻫﻮ اﻟﻤﻘﺼﻮﺩ ﻣﻨﻬﺎ.

(کتاب الصلاۃ، باب الجنائز: ج:2، ص:210، ط:دارالفکر، بیروت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 267

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com