عنوان: میاں بیوی تین طلاق کے بعد بھی ایک ساتھ رہ رہے ہیں، ان کی بیٹی سے شادی کرنے کا حکم(108167-No)

سوال: السلام علیکم، ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں، جبکہ اس بیوی سے اس کے پانچ بچے تھے، پھر اس نے غیر مقلدین سے فتویٰ لے کر رجوع کر لیا، اس شخص کی بیٹی( بیٹی طلاق کے واقعہ سے بارہ پندرہ سال پہلے پیدا ہوئی ہے) سے نکاح کرنے کے بارے کیا حکم ہے؟ نیز نکاح کی صورت میں ساس سسر ( طلاق یافتہ عورت جو غیر شرعی طریقہ سے شوہر کے ساتھ ہے ) کے گھر سے کھانے پینے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

جواب: صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لئے اپنی مطلقہ بیوی کے ساتھ رہنا حرام ہے، انہیں فورا جدا ہو کر توبہ و استغفار کرنا چاہئے، اور اگر یہ لوگ سمجھانے کے باوجود اس بدکاری سے نہ رکیں، تو ان کے ساتھ تعلقات قطع کردینے چاہئیں، ان کے ساتھ میل جول، کھانا اور کاروباری معاملات ترک کردینے چاہیں، تاکہ وہ اپنے اس کھلم کھلا گناہِ کبیرہ کے عملِ قبیح کو ترک کردیں، البتہ انکی مذکورہ بیٹی سے بشرطیکہ کوئی اور سبب حرمت نہ ہو، نکاح کرنا جائز ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


القرآن الکریم:(سورۃالبقرۃ،الایۃ:230)
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ.

وقال تعالٰی ایضاً:(سورۃالمائدۃ،الایۃ:2)
وَتَعَاوَنُوْا عَلٰی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلٰی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَان۔

وقال تعالٰی ایضاً:(سورۃالنساء،الایۃ:24)
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۚ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔

فتح الباری:(497/10،ط:دارالمعرفۃ،بیروت)
أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع فتبين هنا السبب المسوغ للهجر وهو لمن صدرت منه معصية فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها''۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 135
miyan biwi teen talaq kay baad bhi aik sath reh rahay hain unki beti say shadi karne ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.