عنوان: کیا سید لڑکی کا نکاح غیر سید لڑکے سے ہوسکتا ہے؟(108220-No)

سوال: السلام علیکم، کیا سید کی لڑکی غیر سید کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ سید لڑکی کا نکاح اس کے ولی کی اجازت سے غیر سید لڑکے سے ہوسکتا ہے، شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، البتہ اگر ولی کی اجازت کے بغیر سید لڑکی خود اپنا نکاح غیر سید لڑکے سے (یعنی غیر کفو میں) کرلیتی ہے تو صحیح قول کے مطابق یہ نکاح منعقد ہوجائے گا، البتہ ولی ایسے نکاح کو عدالت سے فسخ کروانے کا اختیار رکھتا ہے، بشرطیکہ ولی اولاد ہونے سے پہلے اپنے اس حق کو استعمال کرلے، ورنہ اس کا یہ حق ختم ہو جائے گا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


الشامیۃ:(55/3،باب الولی،ط:دارالفکر)
(فنفذ نکاح حرة مکلفة بلا ) رضا ( ولی ) والأصل أن کل من تصرف في مالہ تصرف في نفسہ وما لا فلا ( ولہ )أي: للولي ( إذا کان عصبة )……( الاعتراض في غیر الکفء) فیفسخہ القاضي،…… ( ما لم ) یسکت حتی ( تلد منہ ) لئلا یضیع الولد ، وینبغي إلحاق الحبل الظاھر بہ، ( ویفتی) في غیر الکفء ( بعدم جوازہ أصلاً ) وھو المختار ( لفساد الزمان )

الھندیۃ:(15/2،ط:دارالفکر)
الکفاءۃ معتبرۃ فی الرجال للنساء للزوم النکاح،کذا فی ((محیط السرخسی))،ولا تعتبر فی جانب النساء للرجال،کذا فی ((البدائع))

کذا فی فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:(رقم الفتویٰ:987-1032/N=11/1436-U)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 137
kia sayyed larki ka nikkah ghair sayyed laraky say ho sakta hai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.