عنوان: نکاح فارم پُر (fill) کیے بغیر دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرنے کا شرعی حکم(108239-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا نکاح کے لیے دستخط کرنا ضروری ہے، اگر کسی نے دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر لیا اور نکاح نامہ پر دستخط نہیں کیے تو کیا نکاح ہو جائے گا؟

جواب: واضح رہے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں زبانی طور پر ایجاب و قبول کرنے سے شرعی طور پر نکاح منعقد ہوجاتا ہے٬ نکاح کے معاہدہ کو تحریر میں لانا یا نکاح نامہ پُر (fill) کرنا اور اس پر دستخط کرنا٬ نکاح کے صحیح ہونے کیلئے شرعا لازم یا ضروری نہیں ہے٬ تاہم جن معاملات میں فریقین کے ایک دوسرے سے حقوق متعلق ہوتے ہوں٬ تو شریعت ایسے معاملات اور معاہدات کو تحریری طور پر ریکارڈ میں لانے کی ترغیب دیتی ہے٬ نیز بہت سے معاشرتی اور قانونی مسائل میں نکاح کے تحریری ریکارڈ کی ضرورت پیش آتی ہے٬ اس وجہ سے بھی نکاح کے معاہدہ کو تحریری صورت میں مرتب کرلینا بہتر اور شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہے٬ لہذا اس کا اہتمام کرنا چاہئیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم:(سورۃالبقرۃ،الایۃ:282)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ

الشامیة:(14/3،ط:دارالفکر)
"ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول"

البحرالرائق:(94/3،ط:دارالکتاب الاسلامی)
"ﻗﻮﻟﻪ: ﻋﻨﺪ ﺣﺮﻳﻦ ﺃﻭ ﺣﺮ ﻭﺣﺮﺗﻴﻦ ﻋﺎﻗﻠﻴﻦ ﺑﺎﻟﻐﻴﻦ ﻣﺴﻠﻤﻴﻦ، ....... ﺑﻴﺎﻥ ﻟﻠﺸﺮﻁ اﻟﺨﺎﺹ ﺑﻪ، ﻭﻫﻮ اﻹﺷﻬﺎﺩ ﻓﻠﻢ ﻳﺼﺢ ﺑﻐﻴﺮ ﺷﻬﻮﺩ ﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ «اﻟﺒﻐﺎﻳﺎ اﻟﻻﺗﻲ ﻳﻨﻜﺤﻦ ﺃﻧﻔﺴﻬﻦ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺑﻴﻨﺔ» ﻭﻟﻤﺎ ﺭﻭاﻩ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻦ ﻣﺮﻓﻮﻋﺎ «ﻻ ﻧﻜﺎﺡ ﺇﻻ ﺑﺸﻬﻮﺩ» ﻓﻜﺎﻥ ﺷﺮﻃﺎ "

و اللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 160
nikkah form fill kiye bagair do logon ki moujodgi mai aijab o qubool karne ka shar'ee hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.