عنوان: شرکت کے معاہدہ کے بعد ایک شریک کی طرف سے سرمایہ شامل کئے بغیر کاروبار میں شریک ہونے اور آخر میں شرکاء کے درمیان نفع تقسیم کرنے کا حکم(108255-No)

سوال: زید اور بکر نے ڈیری فارم کا کام شراکت میں اس طور پر شروع کیا کہ جس میں دس فیصد زید کا اور نوے فیصد عمر کا تھا، اور یہ طے ہوا کہ بکر موجودہ وقت اور حالات میں سرمایہ کاری کرے گا، جبکہ زید کچھ عرصہ بعد سرمایہ کاری کا بندوبست کر کے سرمایہ لگائے گا، ایک سال بعد زید نے بکر سے کہا کہ وہ مزید نہیں چل سکتا۔ اب زید کا کوئی سرمایہ نہیں لگا یو، اس دوران ایک سال تک زید محنت کرتا رہا ہو، کیا اس دوران جو جانور پیدا ہوئے اور جو دودھ کی چواہی ہوئی یا جو بھی منافع ہوا ہو، تو کیا زید کا بھی اس میں حصہ ہوگا؟

جواب: مذکورہ صورت میں شرکت کا معاہدہ ہوجانے کے بعد زید نے اپنا سرمایہ شامل نہیں کیا، تو بھی معاہدہ کی وجہ سے شراکت کا معاملہ شرعا منعقد ہوگیا تھا٬ اور زید کے ذمہ طے شدہ سرمایہ دین بن گیا٬ بعد میں جب بکر نے اپنے سرمایہ سے کوئی سامان وغیرہ خریدا تو اس میں دونوں کی شرکت ثابت ہوجائے گی٬ لہذا اب اگر فریقین شراکت کا معاہدہ ختم کرنا چاہتے ہیں٬ تو سب سے پہلے زید اپنے ذمہ واجب الاداء سرمایہ بکر کو ادا کرے گا٬ پھر باقی نفع فریقین کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم ہوگا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مشكوٰةالمصابيح:(رقم الحدیث:2930،ط:المکتب الاسلامی،بیروت)
"عن زهرة بن معبد: أنه كان يخرج به جده عبد الله بن هشام إلى السوق فيشتري الطعام فيلقاه ابن عمر وابن الزبير فيقولان له: أشركنا فإن النبي صلى الله عليه وسلم قد دعا لك بالبركة فيشركهم.....رواہ البخاری"

الهداية:(10/3،ط:داراحیاءالتراث العربی)
"وإن اشترى أحدهما بماله وهلك مال الآخر قبل الشراء فالمشترى بينهما على ما شرطا" لأن الملك حين وقع وقع مشتركا بينهما لقيام الشركة وقت الشراء فلا يتغير الحكم بهلاك مال الآخر بعد ذلك، ثم الشركة شركة عقد عند محمد خلافا للحسن بن زياد، حتى إن أيهما باع جاز بيعه؛ لأن الشركة قد تمت في المشترى فلا ينتقض بهلاك المال بعد تمامها.
قال: "ويرجع على شريكه بحصة من ثمنه" لأنه اشترى نصفه بوكالته ونقد الثمن من مال نفسه"

وفیہ ایضا:(11/3،ط:داراحیاءالتراث العربی)
"ولنا أن الشركة في الربح مستندة إلى العقد دون المال؛ لأن العقد يسمى شركة فلا بد من تحقق معنى هذا الاسم فيه فلم يكن الخلط شرطا، ولأن الدراهم والدنانير لا يتعينان فلا يستفاد الربح برأس المال، وإنما يستفاد بالتصرف لأنه في النصف أصيل وفي النصف وكيل. وإذا تحققت الشركة في التصرف بدون الخلط تحققت في المستفاد به وهو الربح بدونه"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 123

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.