عنوان: میکہ میں بیس دن گزارنے کی قسم کھا کر دس دن گزارنے سے کیا قسم ٹوٹ جائے گی؟(8267-No)

سوال: السلام علیکم، ایک عورت نے قسم کھائی تھی کہ میں میکے میں بیس دن گزاروں گی، مگر دس گزارنے کے بعد کسی مجبوری کے بنا پر شوہر کے گھر واپس آگئی، اب یہ عورت بقیہ دس گزارنے کے لئے واپس میکے جائے یا قسم کا کفارہ دے؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں آپ نے بیس دن میکہ میں نہ گزارنے کی وجہ سے قسم پوری نہیں کی، لہذا آپ پر قسم توڑنے کی وجہ سے کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو صبح شام (دو وقت) پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے یا دس مساکین میں سے ہر مسکین کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدی جائے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑوں کا دیدیا جائے، اور اگر قسم کھانے والا غریب ہے اور مذکورہ امور میں سے کسی پر اس کو استطاعت نہیں ہے، تو پھر کفارہ قسم کی نیت سے مسلسل تین دن تک روزے رکھنے سے بھی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدۃ، الایۃ: 89)
لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَo

المبسوط: (196/3)
اذا حلف الرجل علی یمین فحنث فیہا فعلیہ الکفارۃ۔

الاصل: (170/3، ط: إدارة القرآن و العلوم الإسلامية)
وأما اليمين التي تكفر فالرجل يحلف ليفعلن كذا وكذا اليوم فيمضي ذلك اليوم من قبل أن يفعله فقد وقعت اليمين على هذا ووجبت عليه الكفارة والكفارة ما قال الله عز وجل في كتابه {لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان} إلى آخر الآية

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 214
maikay mai bees din guzarne ki qasam kha kar das din guzarne say kia qasam toot jaygi?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.