عنوان: عورت کی بچہ دانی کی پیوندکاری(Uterine Transplantation) کرنے کا حکم (108309-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ اس مسئلے کا تحقیقی جواب چاہیے کہ ایک عورت کی بچہ دانی (Uterus) کو دوسری عورت میں پیوند (Transplant) کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔

جواب: واضح رہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو اعضاء عطا فرمائے ہیں، انسان خود بھی ان کا مالک نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی مرضی سے اپنے اعضاء دے سکے، نیز انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات اور محترم بنایا ہے، جبکہ اس سلسلے میں بچہ دانی (Uterus) کی پیوند کاری (Transplantation) کا طریقہ انسانی احترام کے بھی خلاف ہے، کیونکہ انسان کے اعضاء دوسری اشیاء کی طرح نہیں ہیں، جن کی خریدو فروخت، ہبہ (Gift) یا عطیہ (Donation)وغیرہ ہوسکتا ہے۔

لہٰذا کسی عورت میں دوسری عورت کی بچہ دانی کی پیوندکاری (Uterine Transplantation) کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، بالخصوص جبکہ یہاں کوئی ایسی شرعی ضرورت بھی نہیں ہے، جس کی بناء پر اس کی اجازت دی جاسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

کذا فی صحیح البخاری:

سمعت عبد الله بن يزيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم: «أنه نهى عن النهبة والمثلة»

(ج:3،ص:481،ط:دار الکتب العلمیۃ.)

کذا فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

أن استعمال جزء منفصل عن غيره من بني آدم إهانة بذلك الغير والآدمي بجميع أجزائه مكرم۔

(ج:3،ص:133،ط: دار الکتب العلمیہ)

کذا فی الھدایہ:

قال: "ولا يجوز بيع شعور الإنسان ولا الانتفاع بها" لأن الآدمي مكرم لا مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا.

(ج:3،ص:46، ط: دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان)

کذا فی فتاویٰ دار العلوم دیوبند:
(رقم الفتویٰ:2640)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 119

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com