عنوان: پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیمِ میراث(108330-No)

سوال: میرے دادا کا گزشتہ ہفتے کو انتقال ہو گیا، دادی کا انتقال پہلے ہی ہو چکا تھا، میرے دادا کے ایک ہی بھائی تھے، جن کا انتقال دو سال پہلے ہو چکا ہے، دادا کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، جن میں سے ایک بیٹی کا انتقال دادا کی زندگی میں ہوگیا ہے۔ اولاد کی تفصیل اس طرح ہے کہ پانچوں بیٹے شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں، ایک بیٹی کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے چار بیٹے ہیں، جبکہ دوسری بیٹی اور انکے شوہر دونوں کا انتقال کئی سال قبل ہو چکا ہے، ان کے دو بچے بیٹا اور بیٹی حیات اور شادی شدہ ہیں۔ براہ کرم جائیداد کی تقسیم فرمادیں، اگر ایک مکان ترکے میں چھوڑا ہے تو کیا فوری اس کو بیچ کر تقسیم کرنا ضروری ہے یا کسی مناسب موقع پر بعد میں کرسکتے ہیں؟

جواب: مرحوم دادا کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کو گیارہ (11) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) اور بیٹی کو ایک (1) حصہ ملے گا، جبکہ ان کی زندگی میں انتقال کرجانے والی مرحوم بیٹی اور اس کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔

اگر فیصد کے اعتبار سے تقسیم کریں، تو
ہر ایک بیٹے کو % 18.18 فیصد اور بیٹی کو % 9.09 فیصد ملے گا۔

نوٹ: مرحوم کا متروکہ مال چونکہ ورثاء کا شرعی حق ہوتا ہے، اور شریعت نے دوسروں کے حقوق جلد از جلد ادا کرنے کی تاکید اور حکم دیا ہے، لہذا جتنی جلدی ممکن ہو سکے، ورثاء میں وراثت تقسیم کردینی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قال اللہ تعالیٰ:

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ ...الخ الاٰیۃ

(سورۃ النساء، آیت نمبر:11)


وقال اللہ تبارک وتعالیٰ:

اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ

(سورۃ النساء، آیت نمبر: 33)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 27

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com