عنوان: بھتیجے، بھتیجیوں، بھانجے اور بھانجیوں میں میراث کی تقسیم(108335-No)

سوال: السلام علیکم، میرا ایک سوال ہے کہ میرے چچا مرحوم محمود احمد غیر شادی شدہ تھے، ان کے تین بہن بھائی تھے، جو ان سے پہلے انتقال کرگئے ہیں، اب ان کے صرف بہن بھائی کے بچے ہیں، ان کی جائیداد کے حقدار کون ہوں گے؟

جواب: اگر مرحوم کے صرف بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں ہیں، تو مرحوم کا کل ترکہ صرف بھتیجوں کو ملےگا، باقی بھتیجیوں، بھانجوں، اور بھانجیوں کو مرحوم کے ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی الشامیۃ:

"أن ابن الأخ لايعصب أخته، كالعم لايعصب أخته، و ابن العم لايعصب أخته، و ابن المعتق لايعصب أخته، بل المال للذكر دون الأنثى؛ لأنها من ذوي الأرحام، قال في الرحبية: و ليس ابن الأخ بالمعصب ... من مثله أو فوقه في النسب."

(کتاب الفرائض، فصل في العصبات، ج:6، ص:783، ط:ایچ ایم سعید)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 27

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com