عنوان: چھپ کر نکاح کرنے کے بعد دوبارہ اعلانیہ نکاح کرنے کا حکم(108359-No)

سوال: اگر کوئی شخص اس لڑکی سے جس سے اس کے گھر والوں کی رضامندی سے منگنی ہوچکی ہے، مسلمان مرد عاقل بالغ کے سامنے ایجاب قبول کر لے تو کیا بعد میں سب کے سامنے نکاح کرنے میں کوئی نقصان تو نہیں ہوگا؟

جواب: صورت مسئولہ میں اگر بالغ لڑکا لڑکی گواہوں (دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں اپنی رضامندی سے نکاح کرلیں، تو اگرچہ نکاح ہوجائے گا، لیکن چھپ کر نکاح کرنا کئی مفاسد کی وجہ سے اچھا نہیں ہے، خصوصاً آپس میں ملنے میں نامحرم سے ملاقات کی تہمت کا قوی اندیشہ ہے۔

واضح رہے کہ پہلا نکاح ہوجانے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن صورت مسئولہ میں پہلا نکاح چونکہ چھپ کر کیا جارہا ہے، لہذا لڑکا لڑکی کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو نکاح پر مطلع کرنے کے لیے دوبارہ اعلانیہ نکاح کرنا ممنوع نہیں ہے۔

دلائل:




مرقاة المفاتيح:(2072/5،رقم الحدیث:3152،ط:دارالفکر)
وعن عائشة قالت: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم : «أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد واضربوا عليه بالدفوف» . رواه الترمذي قال: هذا حديث غريب".
قال ابن الهمام: ويستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لكونه عبادة وكونه في يوم الجمعة.

الدرالمختار:(8/3،ط:دارالفکر)
ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 170
chop / choup kar nikah karne / karney ke / kay bad / baad dobara elania / ilaania nikah karne / karney ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.