عنوان: قضاء نمازوں اور روزوں کا فدیہ اپنی اولاد کو دینے کا حکم(108393-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! مرحومہ کے نماز اور روزوں کے فدیہ کی رقم، اس کی اولاد کو یا اولاد کا قرضہ اتارنے کی مد میں دے سکتے ہیں جبکہ سب وارث بالغ ہوں اور ان کی رضامندی بھی ہو؟

جواب: واضح رہے کہ قضاء نمازوں اور روزوں کے فدیہ کا مصرف وہی ہے، جو زکوة کا مصرف ہے، جس طرح اپنی اولاد کو مقروض ہونے کے باوجود زکوۃ دینا جائز نہیں ہے، اسی طرح قضاء نمازوں اور روزوں کا فدیہ بھی اپنی اولاد کو دینا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

قال اللہ تعالی:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَ الۡمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الۡغٰرِمِیۡنَ وَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿سورة التوبة، الآیة : 60﴾

کذا فی الدر المختار مع الرد المحتار:

ومصرف الزکوٰۃ ہو فقیر وتحتہ فی الشامیۃ: وہو مصرف أیضا لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیرہ ذلک من الصدقات الواجبۃ ۔

(ج:2، ص:339، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ط: سعید)

کذا فی البحر الرائق:

ﻗﻮﻟﻪ: (ﻓﺈﻥ ﻟﻢ ﻳﺴﺘﻄﻊ اﻟﺼﻮﻡ ﺃﻃﻌﻢ ﺳﺘﻴﻦ ﻓﻘﻴﺮا ﻛﺎﻟﻔﻄﺮﺓ ﺃﻭ ﻗﻴﻤﺘﻪ) :

ﻭﺃﺷﺎﺭ ﺑﺬﻛﺮ اﻟﻔﻘﻴﺮ ﺇﻟﻰ ﺃﻧﻪ اﻟﻤﺮاﺩ ﻓﻲ اﻵﻳﺔ ﻓﺎﻟﻤﺴﻜﻴﻦ ﻭاﻟﻔﻘﻴﺮ ﺳﻮاء ﻓﻴﻬﺎ ﻭﺃﻓﺎﺩ ﺑﻘﻮﻟﻪ ﻛﺎﻟﻔﻄﺮﺓ ﺃﻱ ﻛﺼﺪﻗﺔ اﻟﻔﻄﺮ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺇﻃﻌﺎﻡ ﺃﺻﻠﻪ ﻭﻓﺮﻋﻪ ﻭﺃﺣﺪ اﻟﺰﻭﺟﻴﻦ ﻭﻣﻤﻠﻮﻛﻪ ﻭاﻟﻬﺎﺷﻤﻲ ﻭﺃﻧﻪ ﻳﺠﻮﺯ ﺇﻃﻌﺎﻡ اﻟﺬﻣﻲ؛ ﻷﻥ ﻣﺼﺮﻑﻫﺎ ﻣﺼﺮﻑﻫﺎ ﻭﻫﻮ ﻣﺼﺮﻑ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺇﻻ اﻟﺬﻣﻲ ﻓﺈﻧﻪ ﻣﺼﺮﻑ ﻓﻴﻤﺎ ﻋﺪا اﻟﺰﻛﺎﺓ۔

ﻗﻮﻟﻪ: (ﻷﻥ ﻣﺼﺮﻑﻫﺎ ﻣﺼﺮﻑﻫﺎ): ﺃﻱ: ﻣﺼﺮﻑ اﻟﻜﻔﺎﺭﺓ ﻣﺼﺮﻑ اﻟﻔﻄﺮﺓ ﻭﻫﻮ ﺃﻱ ﻣﺼﺮﻑ اﻟﻔﻄﺮﺓ ﻣﺼﺮﻑ اﻟﺰﻛﺎﺓ.

(ج: 4، ص: 116، ط: دارالکتاب الاسلامی)

کذا فی الفتاویٰ الھندیۃ:

ومصرف ھذہ الصدقۃ ما ھو مصرف الزکاۃ۔

(ج؛1، ص:194، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، ط:رشیدیہ، کوئٹہ)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com