عنوان: پیشاب کا ایک قطرہ نکلنا بھی ناقض وضو ہے(108538-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! میں مسجد میں امام ہوں، مجھے دورانِ سنت پیشاب کا صرف ایک قطرہ گرنے کا یقین ہوا، اس کے بعد جماعت کھڑی ہونے میں 1 منٹ رہ گیا تھا، میں نے اسی طرح نماز پڑھا دی، کیا نماز ہوگئی؟

جواب: واضح رہے کہ پیشاب کا ایک قطرہ نکلنے پر بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے، لہذا نماز پڑھنے کے لیے آپ کو ازسر نو وضو کرنا ہوگا۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں پیشاب کا قطرہ نکلنے کے بعد آپ کا ازسرنو وضو کیے بغیر نماز پڑھانا صحیح نہیں تھا، جس کی وجہ سے آپ اور آپ کی اقتداء کرنے والوں پر نماز کا اعادہ لازم ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سنن الدارقطنی:(باب قدرالنجاسۃالتی تبطل الصلاۃ،رقم الحدیث:1494،ط:مؤسسةالرسالة)
عن أبی ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي علیہ السلام قال: تعاد الصلاۃ من قدر الدرہم من الدم۔

الدرالمختارمع ردالمحتار:(339/1،ط:دارالفکر)
ویجب أي یفرض غسلہ إن جاوز المخرج نجس مائع، ویعتبر القدر المانع للصلاۃ فیما وراء موضع الاستنجاء؛ لأن ما علی المخرج ساقط شرعاً وإن کثر، ولہٰذا لا تکرہ الصلاۃ معہ والحاصل: أن ما جاوز المخرج إن زاد علی الدرہم في نفسہ یفترض غسلہ اتفاقاً۔

وفیہ ایضاً:(262/1،ط:دارالفکر)
ثم المراد بالخروج من السبیلین مجرد الظہور.

ردالمحتار:
فلو نزل البول إلی قصبۃ الذکر لاینقض لعدم ظہورہ، بخلاف القلفۃ؛ فإنہ بنزولہ الیہا ینقض الوضوء۔

الفتاویٰ التاتارخانیۃ:(241/1،رقم:185،ط:مکتبۃرشیدیۃ)
ولو نزل البول إلی قصبۃ الذکر لا ینقض؛ لأنہ من الباطن ولو خرج إلی القلفۃ أو إلی أسکنی المرأۃ ینقض؛ لأنہ من الظاہر۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 237
peshab / peshaab ka aik qatra nikalna bhi naqis wazu he

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.