عنوان: دو بیویوں کے درمیان برابری کا سلوک کرنا(108559-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! کسی کی دو بیویاں ہیں، ایک کے پاس اولاد نہیں، دوسری کے پاس 4 بچے ہیں، دونوں کا گھر الگ الگ ہے، کیا ان دونوں گھروں میں وقت کی تقسیم برابر برابر ہوگی، جب کہ بچوں کو بھی والد کا وقت چاہیے ہوتا ہے اور اس کےوالدین بھی بچوں والی بیوی کے طرف ہی ہیں یعنی ان کو بھی اسی بیوی کے وقت میں سے وقت دیا جارہا ہے؟ ازراہ کرم شریعت کی رو سے جواب عطا فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا کثیرا کثیرا

جواب: جس شخص کی دو یا دو سے زیادہ بیویاں ہوں، اس کے ذمہ چند چیزوں میں برابری کرنا لازم ہے:

(1) شب باشی میں برابری کرنا، یعنی جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ رہتا ہے، اتنی ہی راتیں دوسری بیوی کے ساتھ بھی رہے، تاہم ہمبستری میں برابری کرنا ضروری نہیں ہے۔

(2) نان ونفقہ میں برابری کرنا، یعنی کھانا پینا، لباس و پوشاک، رہائش اور خرچہ میں برابری کرے۔

(3) معاملات اور برتاؤ میں برابری کرنا، یعنی اگر پہلی سے اچھا برتاؤ کرتا ہے، تو دوسری سے بھی ایسا ہی اچھا برتاؤ کرے، اسی طرح اگر ایک کو تحفہ دیتا ہے، تو دوسری کو بھی تحفہ دے۔

ہاں البتہ دن کے اوقات میں اس پر دونوں بیویوں کے درمیان برابری کرنا ضروری نہیں ہے، لہذا دن کے وقت اگر وہ اپنے بچوں اور والدین کے ساتھ وقت گزارتا ہے، تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الحکیم: (النساء:3) فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنٰى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ذٰلِكَ اَدْنٰى اَلَّا تَعُوْلُوْا ۔


السنن للامام ابی داود: (290/1)
عن أبى هريرة ؓ عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل .

الدر المختار مع رد المحتار: (3/201 دارالفکر)
(يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب ( بلا فرق بين فحل وخصي وعنين ومجبوب ومريض وصحيح ) ۔۔۔ ( والبكر والثيب والجديدة والقديمة والمسلمة و الكتابية سواء ) لإطلاق الآية (وللأمة والمكاتبة وأم الولد والمدبرة ) والمبعضة ( نصف ما للحرة ) أي من البيتوتة والسكنى معها أما النفقة فبحالهما ( ولا قسم في السفر ) دفعا للحرج (فله السفر بمن شاء منهن والقرعة أحب ) تطييبا لقلوبهن (ولو تركت قسمها ) بالكسر أي نوبتها ( لضرتها صح ولها الرجوع في ذلك ) في المستقبل۔

فتاوی دارالعلوم دیوبند: (690-805/M=7/1438)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com