عنوان: وضو میں داڑھی کے خلال کا طریقہ اور داڑھی دھونے کا حکم(108598-No)

سوال: مفتی صاحب! خلال کسے کہتے ہیں؟ نیز کیا وضو میں داڑھی کا دھونا ضروری ہے؟

جواب: وضو میں داڑھی کے خلال سے مراد یہ ہے کہ چہرہ دھونے کے بعد دائیں ہاتھ میں پانی لیا جائے، اور اسے ٹھوڑی کے نیچے کی جانب سے بالوں کی جڑوں میں ڈالا جائے، اور پھر انگلیوں کو بالوں میں داخل کرکے نیچے سے اوپر کی جانب اس طرح لے جایا جائے کہ ہاتھ کی پشت گلے کی جانب ہو۔

واضح رہے کہ داڑھی اگر اس قدر گھنی ہو کہ اندر کی جلد نظر نہ آئے، تو اس کو اوپر سے دھونا فرض ہے،اور انگلیوں سے اندر کا خلال کرنا سنت ہے، البتہ اگر داڑھی ہلکی ہو، تو پوری داڑھی کو پانی سے تر کرنا ضروری ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


الشامیۃ:(117/1،ط:سعید)
"وقال في المنح: وكيفيته على وجه السنة أن يدخل أصابع اليد في فروجها التي بين شعراتها من أسفل إلى فوق بحيث يكون كف اليد الخارج وظهرها إلى المتوضئ. اه."

الھندیہ:(4/1،ط:دارالفکر)
ویغسل۔۔۔۔۔۔ما کان من شعر اللحیۃ علی اصل الذقن ولا یجب ایصال الماء الی منابت الشعر الا ان یکون الشعر قلیلا تبدو منہ المنابت کذا فی فتاوی قاضی خان۔

حاشیةالطحطاوي:(ص:70،ط:دارالكتب العلمية)
"والتخلیل تفریق الشعر من جهة الأسفل إلی فوق ویکون الکف إلی عنقه ... أي حال وضع الماء ویجعل ظهر کفه إلی عنقه حال التخلیل".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 233
wazu me / mein darhi ke / key khilal ka tareeqa or darhi dhone / dhoney ka hukum / hukm

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.