عنوان: اگر بچہ ماں کے کپڑوں پر دودھ کی الٹی کردے، تو کیا کپڑے بدلنا ہوں گے؟(108653-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر دودھ پیتا بچہ کپڑوں پر دودھ نکال دے، تو کیا نماز کے لیے کپڑے تبدیل کرنے ہوں گے یا نہیں؟

جواب: بچے کی قے (الٹی) منہ بھر کر ہو، تو اس کا حکم بڑے آدمی کی قے (الٹی) کی مانند ہوگا، یہ ناپاک ہے، اور اس کا حکم نجاست غلیظہ کا ہے، یعنی اگر یہ جسم یا کپڑے پر ایک درہم (ہتھیلی کے گہراؤ) کے برابر یا اس سے کم مقدار میں لگ جائے، اور ایسی صورت میں نماز پڑھ لی جائے، تو نماز ادا ہو جائے گی، اگرچہ مکروہ ہوگی۔

اور اگر اس قے (نجاست) کے پھیلاؤ کی مقدار ایک درہم سے زیادہ ہے، تو اس کو دھونا ضروری ہے، اس کو دھوئے بغیر نماز نہیں ہوگی۔

اور اگر قے (الٹی) منہ بھر کر نہ ہو، خواہ بالغ کی ہو یا نابالغ کی، تو وہ ناپاک نہیں ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


الدرالمختار:(138/1،ط:دارالفکر)
(و) ينقضه (قيء ملأ فاه) بأن يضبط بتكلف۔۔۔وهو نجس مغلظ ولو من صبي ساعة ارتضاعه، هو الصحيح ؛ لمخالطة النجاسة۔۔۔الخ

الھندیۃ:(46/1،ط:دارالفکر)
وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف . هكذا في التبيين والكافي وأكثر الفتاوى والمثقال وزنه عشرون قيراطا وعن شمس الأئمة يعتبر في كل زمان بدرهمه والصحيح الأول. هكذا في السراج الوهاج ناقلا عن الإيضاح۔۔۔الخ

فتاوی الجامعۃبنوری تاؤن:رقم الفتوی:143902200020

تفہیم الفقہ:(71/2،مکتبۃ النور)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 218

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.