عنوان: دوسرے کلمہ میں "وحدہ لا شریک لہ" کے الفاظ کا حکم(108703-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! دوسرا کلمہ میں "وحدہ لاشریک لہ'' ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں، جزاک اللہ خیراً

جواب: دوسرے کلمہ کے الفاظ حدیث کی معروف کتاب سنن ابن ماجہ وغیرہ سے ثابت ہیں٬ جن میں "وحدہ لا شریک لہ" کے الفاظ بھی موجود ہیں٬ نیز ان الفاظ کا اضافہ کئے بغیر بھی معنی و مفہوم میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی٬ اس لئے اگر کوئی "وحدہ لا شریک لہ" کے الفاظ کے بغیر بھی دوسرا کلمہ پڑھتا ہے٬ تو اس میں شرعا کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

واضح رہے کہ یہ چھ کلمے (کلمہ طیبہ، کلمہ شہادت، کلمہ تمجید، کلمہ توحید، کلمہ استغفار اور کلمہ رد کفر) قرآن و حدیث میں ان ناموں اور ترتیب کے ساتھ یکجا کہیں موجود نہیں ہیں، البتہ ان کے الفاظ قرآن و حدیث سے لیے گئے ہیں٬ جن کے معانی درست ہیں، علماء کرام نے عوام الناس کی عربیت سے ناواقفیت کی بنیاد پر ان کی سہولت اور آسانی کیلئے ان چھ کلموں کو مرتب کرکے نام رکھے٬ تاکہ عوام الناس کے عقائد درست ہوں٬ لہذا ان چھ کلموں کو یاد کرنا اور پڑھنا جائز ہے٬ لیکن ان ناموں اور ترتیب کے ساتھ چھ کلموں کو یاد رکھنا کوئی فرض یا واجب نہیں ہے٬ اس لئے اگر کسی کو اس ترتیب کے ساتھ یاد نہ ہوں٬ تو اس کی وجہ سے اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بنانا چاہئیے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سنن ابن ماجہ:(رقم الحدیث:469 ،469/1،ط:دار الرسالة العالمیة)
عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال ثلاث مرات "أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله" فتح له ثمانية أبواب الجنة من أيها شاء دخل

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 183

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.