عنوان: ایک بھائی اور تین بہنوں میں اکتیس لاکھ (3100000) میراث کی تقسیم(108785-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! ایک بھائی اور تین بہنوں میں 3,100,000 کی میراث کی تقسیم فرمادیں۔

جواب: مرحوم والدین کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کو پانچ (5) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بھائی کو دو (2) اور تین بہنوں میں سے ہر ایک کو ایک (1) حصہ ملے گا۔

اس تقسیم کے اعتبار سے اکتیس لاکھ (3100000) میں سے بھائی کو بارہ لاکھ چالیس ہزار (1240000) اور ہر ایک بہن کو چھ لاکھ بیس ہزار (620000) روپے ملیں گے۔

دلائل:




القرآن الکریم:(سورۃالنساء،الایۃ:176)
وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

السنن الکبری للبیہقی:(رقم الحدیث:288/9،12581،ط:دارالفکر،بیروت)
عن زیدبن ثابت فإن کان معہن أخ ذکر فإنہ لافریضۃ لأحد من الأخوات، ویبدأ بمن شرکہم من أہل الفرائض فیعطون فرائضہم فما فضل بعد ذلک کان بین الإخوۃ والأخوات للأب والأم للذکر مثل حظ الأنثیین۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.