عنوان: قبلہ سے 45 درجہ منحرف قبریں بنانے کا شرعی حکم(108824-No)

سوال: ہمارے ہاں ایبٹ آباد میں 5 مرلہ کا ایک پلاٹ ہے، جو کہ خریدنے والوں نے قبرستان کے لیے خریدا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس میں قبریں قبلہ رخ پر بنائی جائیں تو جگہ کم ہو جاتی ہے، اگر وہی قبریں قبلہ رخ سے 45 درجے تک انحراف کر کے بنائی جائیں تو جگہ بھی زیادہ بچ جاتی ہے اور 13 قبریں زیادہ آجاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس سے استقبال قبلہ کی سنت حاصل ہوگی یا نہیں؟ دوسرا یہ بھی عرض ہے کہ آیا اس طرح سے شروع سے ہی قبریں بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ بھی عرض ہے کہ اس کے قریب قریب جتنی قبریں ہیں، وہ سب 54 درجے تک انحراف کر کے بنائی گئی ہیں، تو کیا ان سب کو بھی استقبال قبلہ کی سنت حاصل ہو گی یا نہیں؟ جواب مرحمت فرما کر شکریہ کا موقع عطا فرمائیں۔

جواب: 1) میت کو داہنے پہلو پر قبلہ رخ لٹانا مسنون ہے، لہذا قبریں بالکل قبلہ رخ ہی بنانی چاہیے، البتہ اگر قبریں سمت قبلہ سے 45 درجہ منحرف بنائی جائیں، تو اس کی بھی گنجائش ہے، کیونکہ نماز میں نمازی کے لیے قبلہ رخ کھڑے ہونا فرض ہے، لیکن علماء کرام نے نماز میں سمت قبلہ سے 45 درجہ انحراف کی صورت میں بھی نماز کو درست قرار دیا ہے، لہذا جب نماز میں گنجائش ہے، تو قبروں میں بطریق اولیٰ اس انحراف کی گنجائش ہے۔

2) میت کو داہنے پہلو پر عمدا قبلہ رخ نہ لٹانا گناہ ہے، لیکن اگر میت کو غلطی سے قبلہ رخ نہ لٹایا جائے، تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے، لہذا جو قبریں غلطی سے قبلہ رخ سے 54 درجے کے انحراف پر بنی ہیں، ان قبروں میں میت کو قبلہ رخ لٹانے کی سنت ادا نہیں ہوگی، البتہ لاعلمی میں اس طرح تدفین کرنے والے گناہ گار نہیں ہوں گے۔

دلائل:




بدائع الصنائع:(319/1،ط:دارالکتب العلمیۃ)
ولو وضع لغیر القبلۃ فان کان قبل اھالۃ التراب علیہ، وقد سرحوا اللبن ازالوا ذلک؛لانہ لیس بنبش، وان اھیل علیہ التراب ترک ذلک؛ لان النبش حرام.

الدرالمختار:(427،428/1،ط:دارالفکر)
(و) السادس (استقبال القبلة)....(ولغيره) أي غير معاينها (إصابة جهتها) بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة أو لهوائها، بأن يفرض
من تلقاء وجه مستقبلها حقيقة في بعض البلاد خط على زوايا قائمة إلى الأفق مارا على الكعبة، وخط آخر يقطعه على زاويتين قائمتين يمنة ويسرة منح. قلت: فهذا معنى التيامن والتياسر

ردالمحتار:(236/2،ط:دارالفکر)
(قوله: ولا ينبش ليوجه إليها) أي لو دفن مستدبرا لها وأهالوا التراب لا ينبش لأن التوجه إلى القبلة سنة والنبش حرام، بخلاف ما إذا كان بعد إقامة اللبن قبل إهالة التراب فإنه يزال ويوجه إلى القبلة عن يمينه حلية عن التحفة، ولو بقي فيه متاع لإنسان فلا بأس بالنبش ظهيرية

احسن الفتاوی:(باب استقبال القبلۃ،313/2،ط:سعید)

فتاوی رحیمیہ:(80/7)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 168

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.