عنوان: مقروض کے ٹال مٹول پر مستحقین کا میراث میں مقروض کے حصہ سے اپنا حق وصول کرنے کا شرعی حکم(108829-No)

سوال: ہمارے ایک بھائی پر ہمارے کچھ بہن بھائیوں اور دیگر کئی افراد کا گذشتہ کئی سال سے قرض ہے، جسے وہ بار بار یاد دہانی کروانے پر بھی (غالباً جان بوجھ کر )ادا نہیں کر رہے، کیا والدہ کی وراثت کی تقسیم میں موجود مقروض بھائی کے حصہ کو متاثرہ بہن بھائی اپنے قرض کی مد میں شمار کر کے اور مقروض بھائی کے علم میں لا کر وصول کرسکتے ہیں ؟ برائے مہربانی وضاحت فرمادیں۔

جواب: ذکر کردہ صورت میں اگر واقعی مقروض شخص ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے، اور باوجود قدرت کے مستحقین کو ان کا قرض واپس نہیں دے رہا، اور آپ حضرات کو دلی اطمینان ہے کہ مقروض سے اس کی رضامندی سے قرض وصول کرنا مشکل ہے، تو مقروض کی والدہ کی میراث میں ان کا جو حصہ بنتا ہے، قرض دینے والے مستحق بہن بھائی اس سے صرف اپنے حق کے بقدر وصول کرسکتے ہیں۔

دلائل:



 
بدائع الصنائع:(174/7،ط:دارالکتب العلمیۃ)
وكذا إذا طلبوا من القاضي بيع ماله عليه مما سوى الدراهم والدنانير من المنقول والعقار له أن يجيبهم إليه عندهما.
وأما عند أبي حنيفة - رحمه الله - فلا يجيبهم إلى ذلك وهي مسألة الحجر، لكن إذا كان دينه دراهم، وعنده دراهم فإن القاضي يقضي بها دينه؛ لأنها من جنس حقه، وإن كان دينه دراهم وعنده دنانير باعها القاضي بالدراهم وقضى بها دينه.

الدرالمختارمع ردالمحتار:(فروع،422/6،ط:دارالفکر)
ليس لذي الحق أن يأخذ غير جنس حقه وجوزه الشافعي وهو الأوسع.
(قوله وجوزه الشافعي) قدمنا في كتاب الحجر: أن عدم الجواز كان في زمانهم، أما اليوم فالفتوى على الجواز.

فتاوی دارالعلوم دیوبند:(38/15،ط:مکتبۃالعلم)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.