عنوان: کپڑوں میں خون لگا ہوا ہونے کی صورت میں نماز پڑھنا(109035-No)

سوال: جسم کے غیر ضروری بال کاٹتے وقت اگر خون آنا شروع ہو جائے اور وقت کی کمی کی وجہ سے خون کا پتہ نہ لگے کہ جاری ہے یا ختم ہو گیا ہے اور وه خون کپڑوں پر لگ جائے، تو کیا ان کپڑوں میں عبادت ہو جائے گی؟

جواب: خون نجاستِ غلیظہ ہے، اس کے لگنے سے کپڑا ناپاک ہوجاتا ہے، ایسے کپڑے میں پڑھی گئی نماز کا حکم یہ ہے کہ اگر خون کی مقدار ایک درہم یا ہاتھ کی ہتھیلی کے گہراؤ سے کم ہو، تو یہ نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی، لیکن اگر اس کی مقدار ایک درہم یا اس سے زیادہ ہو، تو اس کپڑے کو دھونا واجب ہے، اس کپڑے میں نماز ادا کرنا درست نہیں ہے، تاہم اگر کسی نے ایسے کپڑوں میں دھوئے بغیر نماز ادا کرلی، تو خون کے ایک درہم سے زیادہ ہونے کی صورت میں نماز ہی نہیں ہوگی، جسے دوبارہ پڑھنا ہوگا، اور ایک درہم کے برابر ہونے کی صورت میں نماز مکروہِ تحریمی ہوگی، جس کا حکم یہ ہے کہ وقت کے اندر اندر اس کو لوٹانا واجب ہے، اور اگر وقت میں نہیں لوٹا سکے، تو وقت گزرنے کے بعد بھی اس کو لوٹانا مستحب ہے، البتہ وقت کے بعد واجب نہیں ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (316/1، ط: الحلبي، بيروت)
(وعفا) الشارع (عن قدر ‌درهم) وإن كره ‌تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض... (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي.
وقال ابن عابدین: (قوله: وإن كره تحريما) أشار إلى أن العفو عنه بالنسبة إلى صحة الصلاة به، فلا ينافي الإثم .... ففي المحيط: يكره أن يصلي ومعه قدر درهم أو دونه من النجاسة عالما به لاختلاف الناس فيه.

حاشية الطحطاوي: (440/1، ط: دار الكتب العلمية)
"كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت وأما بعده فندباً".

کذا فی فتاوی بنوری تاؤن: رقم الفتوی: 144106200744

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 459
kapro / libas me / mein khon / blood hua hone / honey ki sorat me / mein namaz parhna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.