عنوان: بیوی کے پوچھنے پر طلاق دینے کے اقرار کا حکم(109054-No)

سوال: مفتی صاحب ! چار سالوں سے میرے شوہر مجھ سے منہ سے بات نہیں کرتے، اگر ان سے میسیج پر پوچھو کہ مجھے طلاق دے دی ہے؟ تو کہتے ہیں کہ دے چکا ہوں، لیکن کاغذ مانگو، تو کاغذ نہیں دیتے، جس کی وجہ سے بہت پریشانی ہے، کہیں میرے دوسرے رشتہ کی بات چلے، تو وہ طلاق نامہ مانگتے ہیں، آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھ پر طلاق واقع ہوگئی ہے اور میں کسی دوسری جگہ شادی کر سکتی ہوں؟

جواب: واضح رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا، بلکہ وہ سوال میں سائل کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق جواب دیتا ہے، لہذا سوال میں بیان کردہ تفصیلات کے سچا یا خلافِ واقع ہونے کی ذمہ داری سوال پوچھنے والے پر ہوتی ہے۔
اس وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ کے شوہر کا طلاق کے بارے میں سوال کے جواب میں "دے چکا ہوں" کہنے سے آپ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ہے، لہذا آپ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں، آپ کی عدت تب سے شروع ہوگئی تھی، جب آپ کے شوہر نے آپ کو طلاق دی تھی، لہذا اگر اس کے بعد تین ماہواریوں کا زمانہ گزر چکا ہو، تو آپ کی عدت گزر چکی ہے، البتہ اس بارے میں شوہر سے معلوم کر لیا جائے کہ انہوں نے کتنا عرصہ قبل آپ کو طلاق دی ہے، پھر اس کے مطابق عدت کا حساب کر لیا جائے۔

دلائل:




البحرالرائق:(264/3،ط:دارالکتاب الاسلامی)
"ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء ۔۔۔۔إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة".

المبسوط للسرخسی:(133/6،ط:دارالمعرفہ،بیروت)
"أن من أقر بطلاق سابق یکون ذٰلک إیقاعا منہ في الحال؛ لأن من ضرورۃ الاستناد الوقوع في الحال، وہو مالک للإیقاع غیر مالک للاستناد".

الفتاوی الھندیۃ:(الفصل الأول في الطلاق الصريح،355/1،ط:دارالفکر)
"ولو قال لامرأته أنت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء كذا في البدائع".

کذا فی فتاوی دارالعلوم دیوبند:رقم الفتوی:192=182-2/1432
Fatwa:608-436/sn=7/1442

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.