عنوان: سکھوں کی مذہبی علامات کی تجارت، نیز بابا گرونانک کے مزار پر لنگر کھانے کا حکم(9166-No)

سوال: السلام علیکم، سکھ مذہب کی مذہبی چیزیں مثلا کڑا، کرپان، پگڑی وغیرہ کی تجارت کرنا کیسا ہے؟
نیز گرونانک کے لنگر خانہ سے کھانا پینا شرعاً کیسا ہے؟

جواب: 1۔ کڑا، کرپان اور پگڑی میں بذات خود کوئی خرابی نہیں ہے، اس لئے اس کی تجارت کرنا شرعا جائز ہے، البتہ اگر بیچنے والے کو معلوم ہو کہ خریدار ان چیزوں کو ناجائز کاموں (سکھوں کی مذہبی رسومات) میں استعمال کرے گا، تو ایسی صورت میں ان کی تجارت شرعا جائز نہیں۔
2۔ اگر گرونانک کے مزار پر تقسیم ہونے والے لنگر کے بارے میں یہ یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ کھانا غیر اللہ کے نام پر یا اس کی تعظیم کی خاطر تقسیم ہو رہا ہے، تو اسے کھانا حرام ہے، کیونکہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور یا غیر اللہ کے نام پر منت مانا ہوا کھانا کھانا جائز نہیں ہے۔
اور اگر غیر اللہ کے نام پر ہونے کا یقین نہ ہو، تب بھی اس سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ آج کل عام طور پر مزارات بدعات اور شرکیہ افعال سے خالی نہیں ہوتے، خاص طور پر مزارات پر عموماً لنگر کا انتظام صحیح العقیدہ لوگوں کے پاس نہیں ہوتا، اس لئے غیر اللہ کے نام پر کھانا تقسیم ہونے کا شبہ موجود رہتا ہے، (بالخصوص جب کہ غیر مسلموں کے مزارات پر تقسیم ہو رہا ہو) لہذا عام طور پر مزارات کا کھانا "مشتبہ مال" کے حکم میں ہونے کی وجہ سے احتیاطاً اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

فقه البیوع:( 223/1، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)
القسم الثالث ما وضع لأغراض عامۃ ویمکن استعمالہ في حالتھا الموجودۃ فی مباح أو غیرہ..... والظاھر من مذھب الحنفیۃ أنھم یجیزون بیع ھذا القسم وإن کان معظم منافعہ محرما....... ولکن جواز البیع فی ھذہ الأشیاء بمعنی صحۃ العقد. أما الإثم فیتأتی فیہ ما ذکرناہ فی شروط العاقد من أنہ إذا کان یقصد بہ معصیۃ، بائعا أو مشتریا، فالبیع یکرہ تحریما، وذلک إما بنیۃ فی القلب، أو بالتصریح فی العقد أن البیع یُقصد بہ محظور. أما إذا خلا العقد من الأمرین ولا یعلم البائع بیقین أن المشتری یستعملہ فی محظور فلا إثم فی بیعہ. وإن علم البائع أنہ یستعملہ فی محظور وکان سببا قریبا داعیا إلی المعصیۃ فیکرہ لہ البیع تحریما، وإن کان سببا بعیدا لایکرہ مثل بیع الحدید من أھل الحرب أو أھل البغی.

الشامیۃ: (439/2، ط: سعید)
مطلب فی النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق. ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك.

الھندیة: (286/5، ط: دار الفکر)
وفي المشكل ذبح عند مرأى الضيف تعظيما له لا يحل أكلها وكذا عند قدوم الأمير أو غيره تعظيما، فأما إذا ذبح عند غيبة الضيف لأجل الضيافة فإنه لا بأس به، كذا في الجوهرة النيرة.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 145
sikho / sikhon ki mazhabi alamaat ki tejarat,neiz / neez guro nanak k / kay mazar per / par langar khane / khanay ka hokum / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.