عنوان: بيٹے كی منگیتر اور اس کی والدہ سے پردہ کا حکم(9349-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میں نے اپنے بیٹے کی منگنی تقریباً چھ سات سال پہلے کی تھی، اور بچی کی والدہ میری چچا زاد بیٹی ہے، اور ہمارے خاندان میں یہ رواج ہے کہ جب کسی کی منگنی ہو، تو سب لوگوں کے سامنے خاندان کا ایک شخص کھڑے ہوکر اعلان کرتا ہے، کہ فلاں بندے نے اپنی بیٹی فلاں بندے کو دے دی ہے، تو اس صورت میں میں اس بچی سے ان کے گھر پر ملاقات کرسکتا ہوں یا نہیں؟ نیز میرا بیٹا اس بچی کی والدہ سے ملاقات کرسکتا ہے یا نہیں؟ براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب: آپ کے چچا کی بیٹی اور اس کی صاحبزادی آپ کے لیے غیر محرم ہیں، لہٰذا شرعی حدود میں پردے کا خیال رکھتے ہوئے ضروری بات چیت کر سکتے ہیں اور آپ کے بیٹے کے لیے بھی نکاح سے پہلے یہی حکم ہے، البتہ شرعی نکاح کے بعد آپ کے بیٹے کے لیے لڑکی کی والدہ محرم ہو جائے گی، ایسی صورت میں آپ کے بیٹے کا اپنی ساس سے پردہ نہیں ہوگا۔
نیز نکاح ہوجانے کے بعد لڑکی یعنی آپ کی بہو آپ کے لیے محرم بن جائے گی، نکاح کے بعد اس کا آپ سے پردہ نہیں ہوگا، لیکن اس کی والدہ بدستور آپ کے لیے غیر محرم ہی رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الآیۃ: 23)
حُرِّمَتۡ ‌عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمۡ تَكُونُواْ دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَٰٓئِلُ أَبۡنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنۡ أَصۡلَٰبِكُمۡ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗاo

الهندية: (274/1، ط: دار الفكر)
(القسم الثاني المحرمات بالصهرية) . وهي أربع فرق: (الأولى) أمهات الزوجات وجداتهن من قبل الأب والأم وإن علون.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 236

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.