عنوان: امتحانات کی تیاری کی وجہ سے نماز تراویح چھوڑنا کیسا ہے؟ (9412-No)

سوال: مفتی صاحب ! اگر امتحانات کی تیاری کر رہے ہوں یا کررہی ہوں اور وہ امتحانات بورڈ کے ہوں تو کیا ان کی تیاری کے لیے تراویح کی نماز چھوڑ سکتے ہیں۔

جواب: تراویح سنتِ موکدہ ہے، بلا عذر اس کو چھوڑنے کی عادت بنانے والا یا غیر اہم سمجھ کر چھوڑنے والا گناہ گار ہے، خلفاءِ راشدین، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور سلفِ صالحین سے مستقل پابندی کے ساتھ تراویح پڑھنا ثابت ہے، لہذا تراویح کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، البتہ اگر کبھی عذر کی وجہ سے چھوٹ جائے، تو اگرچہ گناہ نہیں ہوگا، لیکن بڑی خیر سے محرومی کا باعث ہو گا۔
واضح رہے کہ امتحانات کی تیاری کرنا کوئی شرعی عذر نہیں ہے، جس کی وجہ سے تراویح ترک کی جائے، اور اگر صرف امتحانات کی تیاری کی وجہ سے تراویح کو ترک کیا جائے، تو یہ بڑی محرومی کی بات ہے، لہذا امتحانات کی تیاری کے لیے متبادل انتظام کرنا چاہیے اور تروایح میں ہرگز سستی نہیں کرنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (493/2، ط: زکریا)

"التراویح سنۃ مؤکدۃ لمواظبۃ الخلفاء الراشدین للرجال والنساء إجماعاً ووقتہا بعد صلاۃ العشاء إلی الفجر۔ وقال الشامي: سنۃ مؤکدۃ، صححہ في الہدایۃ وغیرہا وہو المروي عن أبي حنیفۃ، وفي شرح منیۃ المصلي: وحکی غیر واحد الإجماع علی سنیتہا".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1312 Mar 29, 2022
imtihanat / exam ki tayari ki waja se / say namaz taraveeh / taravih chorna kesa he / hay?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Taraweeh Prayers

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.