عنوان: لڑکے اور لڑکی کے شادی سے پہلے ناجائز تعلقات رکھنے اور کورٹ میرج کا حکم(9469-No)

سوال: السلام علیکم! اگر ایک لڑکا اور لڑکی نکاح کرنا چاھتے ہیں، لیکن لڑکی کے گھر والے نہیں مان رہے، اس تاخیر کی وجہ سے دونوں کے درمیان بار بار زنا کا گناہ ہو رہا ہے، لیکن گھر والے لڑکی کی شادی کہیں اور کروانا چاہتے ہیں، اس صورت میں کیا یہ اجازت ہے کہ لڑکا اور لڑکی خود کو گناہ سے بچانے کے لیے کورٹ میرج کرلیں؟

جواب: واضح رہے کہ اجنبی مرد و عورت کا آپس میں بلا ضرورت باتیں کرنا، ملنا جلنا اور میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا بہر صورت ناجائز اور حرام ہے، لہذا اس گناہ پر صدق دل سے توبہ و استغفار اور ناجائز تعلقات فوری طور پر ختم کرنا شرعا لازم اور ضروری ہے۔
شریعتِ مطہرہ نے لڑکی اور لڑکے دونوں کی حیاء، پاکدامنی، اخلاق اور معاشرت کا خیال رکھتے ہوئے اپنے ولی کی سرپرستی میں نکاح کی ترغیب دی ہے، یہی شرعاً اور اخلاقاً پسندیدہ طریقہ ہے، اسی میں دینی، دنیوی اور معاشرتی فوائد ہیں، لہذا ولی کی رضامندی کے بغیر کورٹ میرج یا خفیہ طور پر نکاح کرنا اخلاقا و عُرفاً شرم و حیا کے خلاف ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، نیز والدین کو بھی اپنے بچوں کی مرضی اور ان کے مزاج کی رعایت رکھنی چاہئیے، اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو، تو ان کی مرضی کی جگہ پر نکاح کرنے کی اجازت دے دینی چاہئیے۔
تاہم اگر عاقل بالغ لڑکا اور لڑکی والدین کو لاعلم رکھ کر شرعی گواہوں کی موجودگی میں کورٹ وغیرہ کے ذریعے باہمی رضامندی سے نکاح کرلیں، تو شرعی طور پر نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔
تاہم اگر لڑکی نے غیر کفو میں نکاح کیا ہو (یعنی وہ لڑکا اس کے خاندان ،نسب ، مال اور دین کے اعتبار سے اس کے ہم پلہ نہ ہو) تو اس کے والدین (اولیاء) کو نکاح فسخ کرانے کا اختیار حاصل ہوگا، بشرطیکہ اولاد ہونے سے پہلے ولی اس حق کو استعمال کرلے، وگرنہ اولاد ہوجانے کے بعد یہ حق ختم ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المعجم الأوسط للطبراني: (6/1، ط: دار الحرمين)
عن جابر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تنكحوا النساء إلا الأكفاء، ولا يزوجهن إلا الأولياء، ولا مهر دون عشرة دراهم»

الھندیة: (293/1، ط: دار الفكر)
"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً، وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة: أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق. ولايكون التفريق بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما"

بدائع الصنائع: (317/2، ط: دار الکتب العلمية)
كفاءة الزوج في إنكاح المرأة الحرة البالغة العاقلة نفسها من غير رضا الأولياء بمهر مثلها....فقد قال عامة العلماء: أنها شرط.....لنا ما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لا يزوج النساء إلا الأولياء، ولا يزوجن إلا من الأكفاء، ولا مهر أقل من عشرة دراهم» ، ولأن مصالح النكاح تختل عند عدم الكفاءة؛ لأنها لا تحصل إلا بالاستفراش، والمرأة تستنكف عن استفراش غير الكفء، وتعير بذلك، فتختل المصالح؛ ولأن الزوجين يجري بينهما مباسطات في النكاح لا يبقى النكاح بدون تحملها عادة، والتحمل من غير الكفء أمر صعب يثقل على الطباع السليمة، فلا يدوم النكاح مع عدم الكفاءة، فلزم اعتبارها.

رد المحتار: (55/3، ط: دار الفكر)
يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 124
larke or larki k / kay shadi se /say pehle najaiz taluqat rakhne or court marriage ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.