عنوان: محض قربانی کی نیت وارادہ کرلینے سے قربانی ذمہ میں لازم ہونے کا حکم(9493-No)

سوال: مفتی صاحب! ہم نے اس سال قربانی کے لیے بکرا اور ایک جانور کی نیت کی ہے، لیکن ہمارے گھر میں پلاسٹر کا کام چل رہا ہے، اس میں کچھ پیسے کم پڑ رہے ہیں، کیا بکرے والے پیسے ہم کام میں لگاسکتے ہیں؟ نوٹ: قربانی ہمارے گھر میں صرف چھ بندوں پر لازم ہے۔

جواب: واضح رہے کہ محض قربانی کی نیت و ارادہ کرلینے سے قربانی ذمہ میں لازم نہیں ہوجاتی، لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں جس شخص نے عید الاضحی کے موقع پر اپنی طرف سے بکرا ذبح کرنے کی نیت و ارادہ کیا ہے، وہ شخص بکرے کی رقم کو گھریلو ضروریات میں خرچ کرسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (فصل في وقت وجوب التضحية، 65/5، ط: دار الكتب العلمية)

وأما وقت الوجوب فأيام النحر فلا تجب قبل دخول الوقت؛ لأن الواجبات المؤقتة لا تجب قبل أوقاتها كالصلاة والصوم ونحوهما، وأيام النحر ثلاثة: يوم الأضحي -وهو اليوم العاشر من ذي الحجة- والحادي عشر والثاني عشر وذلك بعد طلوع الفجر من اليوم الأول إلي غروب الشمس من الثاني عشر.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 738 May 23, 2022
mehez qurbani ki niat / niyat wa irada karlene se / say qurbani zimme me / mein lazim hone / honey ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.