عنوان: حاجی پر کتنی قربانیاں واجب ہیں؟ اور حاجی حلق کرے گا یا قصر کرے گا؟ (9581-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک شخص حج پر جائے، اور وہیں جاکر قربانی بھی کرلے، تو کیا وہ پاکستان میں بھی قربانی کرے گا؟
2. دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے کے بعد پہلے مشین سے بال اتارنے کے بعد سیفٹی یا استرے سے حلق کرسکتا ہے یا سیفٹی یا استرے سے براہ راست حلق کرنا ضروری ہے؟

جواب: 1- واضح رہے کہ "حجِ قران" اور "حجِ تمتع" کے بعد جو قربانی واجب ہوتی ہے، وہ "دمِ شکر" کہلاتی ہے، البتہ "حجِ افراد" کرنے والے پر "دمِ شکر" واجب نہیں ہوتا ہے۔
لہذا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق قربانی کے دنوں(12،11،10 ذوالحجہ ) میں حلق (سرمنڈوانے) یا بال کٹوانے سے پہلے منیٰ یا حدود حرم میں "دم شکر" کے طور پر قربانی کرنا "حج قران" اور "حج تمتع" کرنے والے حاجیوں پر واجب ہے۔
ہاں! وہ قربانی جو حاجی پر صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے واجب ہوتی ہے (حج قران یا حج تمتع کی وجہ سے نہیں)، تو چونکہ اس قربانی کے لیے مقیم ہونا ضروری ہے، مسافر پر وہ قربانی واجب نہیں ہوتی ہے، لہذا اگر حاجی قربانی کے ایام میں مکہ مکرمہ، منی اور مزدلفہ ان تینوں مقامات کو ملا کر ان میں پندرہ دن یا اس سے زائد دنوں کے لیے مقیم ہو، (کیونکہ بعض مفتیان کرام کے نزدیک منی ومزدلفہ کی حدود مکہ کے ساتھ متصل ہو گئیں ہیں، اس لیے وہ ایک ہی علاقہ شمار ہوں گے) تو اس حاجی پر صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہوتی ہے، پھر اسے اختیار ہے چاہے تو وہ اپنی واجب قربانی (جو حج کے علاوہ ہو) وہیں منٰی میں کرے یا مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ یا اپنے وطن میں کر ے، البتہ منیٰ میں قربانی کرنے کا ثواب دوسری جگہوں میں قربانی کرنے سے زیادہ ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل کا خلاصہ یہ نکلا کہ جو حاجی مقیم ہو، صاحب نصاب ہو اور وہ "حج قران" یا "حج تمتع" میں سے کوئی حج ادا کر رہا ہو، تو اس پر دو قربانیاں واجب ہوتی ہیں، ایک "دم شکر" کے طور پر اور دوسری صاحب نصاب مقیم ہونے کی وجہ سے۔ اور جو حاجی صاحب نصاب نہ ہو، یا صاحب نصاب ہو، لیکن مسافر ہو، یا صاحب نصاب اور مقیم ہو، لیکن وہ "حج افراد" کر رہا ہو، تو اس پر صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے ایک قربانی کرنا واجب ہے۔
2- حاجی اور عمرہ کرنے والا احرام سے نکلنے کے لیے حلق (استرے سے سر منڈوانا) اور قصر (انگلی کے ایک پورے کے برابر بال ہوں تو انہیں قینچی سے چھوٹا کرنا) دونوں جائز ہے، البتہ حلق کروانا افضل ہے، نیز اگر بال انگلی کے ایک پورے سے چھوٹے ہوں تو پھر حلق کروانا واجب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهندية: (کتاب الحج، الباب السابع في القران و التمتع، 239/1)
"ویجب الدم علی المتمتع شکراً إلی قوله : وحکم القارن کحکم المتمتع في وجوب الهدي إن وجده".

رد المحتار: (کتاب الحج، مطلب في رمي جمرۃ العقبة، 534/3، ط: بیروت)
"والذبح له أفضل ویجب علی القارن والمتمتع، وأما الأضحیة فإن کان مسافراً فلا یجب علیه وإلا کالمکي فتجب، کما في البحر".

الهداية: (کتاب الأضحیة، 443/4)
"الأضحیة واجبة علی کل حرّ مسلم مقیم موسر في یوم الأضحی".

صحيح مسلم: (كتاب الحج، بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَ جَوَازِ التَّقْصِيرِ، رقم الحديث: 1302، ط: دار إحياء التراث العربي)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟، قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟، قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: «وَلِلْمُقَصِّرِينَ».

الفتاویٰ التاتارخانیة: (643/3، ط: زکریا)
"الحلق والتقصیر مشروعان في حق الرجل للتحلیل عن الإحرام، وأما المرأۃ فلا حلق علیه، ولکنها تقصر بأخذ شيء من أطراف الشعر مقدار أنملة، والأفضل لها أن تقصر من کل شعرۃ مقدار أنملة".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 2413 Jun 10, 2022
haji per / par kitni qurbania wajib hain? or haji halaq kare ga ya qasar kare ga?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.