عنوان: عقد نکاح کی مجلس میں ایک عورت کی موجودگی اور ایک مرد کے فون پر گواہ بننے کی صورت میں نکاح کا حکم (9586-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک نکاح ہوا ہے، جس کا طریقہ کار یہ تھا کہ دونوں فریقین ایک مجلس میں تھے، ان کے ساتھ ایک عورت گواہ تھی اور ایک مرد گواہ فون پر تھا، ایجاب و قبول اس عورت اور فون پر جو مرد گواہ ہے، اس کے سامنے کیا گیا، دونوں نے صاف سنا، کیا ان دونوں کا نکاح ہوگیا؟ کچھ علماء دین کا کہنا ہے کہ خود عورت نے اپنا وکیل فون والے شخص کو بنا لیا، اب اس میں وہ عورت خود اپنی گواہ بن گئی، کیا یہ درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ نکاح منعقد ہونے کے لئے مجلس نکاح میں دو گواہوں (دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کا موجود ہونا شرط ہے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں چونکہ مجلس نکاح میں نکاح کرنے والے لڑکے اور لڑکی کے علاوہ صرف ایک عورت بطور گواہ موجود ہے، لہذا یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھدایة: (کتاب النکاح، 185/1، ط: دار احياء التراث العربي)
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين۔

البحر الرائق: (کتاب النکاح، 94/3، ط: دار الکتاب الاسلامي)
(قوله: عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغين مسلمين، ولو فاسقين أو محدودين أو أعميين أو ابني العاقدين) متعلق بينعقد بيان للشرط الخاص به، وهو الإشهاد فلم يصح بغير شهود لحديث الترمذي «البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن من غير بينة» ولما رواه محمد بن الحسن مرفوعا «لا نكاح إلا بشهود» فكان شرطا ولذا قال في مآل الفتاوى: لو تزوج بغير شهود ثم أخبر الشهود على وجه الخبر لا يجوز إلا أن يجدد عقدا بحضرتهم. اه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 86
idat nikah / idate nikah / idat e nikah ki majlis me / mein aik / 1 orat ki mojodgi or aik / 1 mard ki phone per / par gawah banne ki sorat me / mein nikah ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.