عنوان: اجتماعی قربانی کے جانور میں نفع رکھنا(9619-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا ارادہ ہے کہ اجتماعی قربانی کے لیے دس جانور لاؤں، اور ان میں اپنا نفع رکھ کر قربانی کی بکنگ کروں، تو کیا یہ نفع لینا شرعاً جائز ہوگا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ پہلے اپنے پیسوں سے اپنے لئے جانور خرید کر، ان کو اپنے قبضے میں لے لیں، اس کے بعد منافع رکھ کر اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں پر فروخت کردیں، تو اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے، اور اگر آپ جانور اپنے لئے نہیں خریدتے، بلکہ بطورِ وکیل اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں کے لئے خریدتے ہیں، تو اس صورت میں آپ کے لئے جانور میں نفع رکھنا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهندية: (کتاب البیوع، الباب الرابع عشر في المرابحة)
"المرابحۃ بیع بمثل الثمن الأول وزیادۃ ربح -إلی قولہ- والکل جائز".

المغنی: (فصل و إذا اشتری الوکیل لمؤکلہ شیئا بإذنہ، 254/7، ط: دار الکتب العلمیۃ)
إذا اشتریٰ الوکیل لمؤکلہ شیئا بإذنہ انتقل الملک من البائع إلیٰ المؤکل ولم یدخل في ملک الوکیل۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: (244/41)
لأن تصرف الوکیل کتصرف المؤکل۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 154
ijtimai qurbani k janwar me / mein nafa rakhna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.