عنوان: پیشاب کے قطرے نکلنے سے پانی سے استنجاء کرنا(9800-No)

سوال: کیا اگر پیشاب کے قطرے نکل جائیں تو استنجا کے بغیر وضو کرکے نماز ادا کی جا سکتی ہے؟

جواب: اگر پیشاب کے قطروں کو ڈھیلے یا ٹشو پیپر وغیرہ سے خشک کر لیا جائے، تو پانی سے استنجاء کیے بغیر بھی وضو کر کے نماز پڑھنا درست ہے، البتہ پانی سے استنجاء کر لینا مستحب ہے، اور اگر قطرے خشک نہ کرسکا اور وہ نجاست مخرج سے متجاوز ہوگئی تو اگر قدر درہم سے زائد نہیں ہے تو دھونا واجب ہے اور اگر زائد ہوگئی تو دھونا فرض ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ اگر پیشاب کپڑے پر لگ جائے اور مقدار درہم سے زیادہ ہو، تو کپڑا ناپاک ہو جائے گا اور نماز پڑھنے کے لیے کپڑوں کو دھونا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (336/1، ط: دار الفکر)
"أن الاستنجاء على خمسة أوجه: اثنان واجبان:
أحدهما: غسل نجاسة المخرج في الغسل من الجنابة والحيض والنفاس كي لاتشيع في بدنه.
والثاني: إذا تجاوزت مخرجها يجب عند محمد قل أو كثر وهو الأحوط؛ لأنه يزيد على قدر الدرهم، وعندهما يجب إذا جاوزت قدر الدرهم؛ لأن ما على المخرج سقط اعتباره، والمعتبر ما وراءه.
والثالث: سنة، وهو إذا لم تتجاوز النجاسة مخرجها.
والرابع: مستحب، وهو ما إذا بال ولم يتغوط فيغسل قبله.
والخامس: بدعة، وهو الاستنجاء من الريح. اھ".

الھندیة: (45/1، ط: دار الفکر)
(الاول) المغلظۃ وعفی منھا قدر الدرھم۔۔۔ کل ما یخرج من بدن الانسان مما یوجب خروجہ الوضوء او الغسل فھو مغلظ کالغائط والبول۔۔الخ.

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 171
peshab k qatre nikal jaen to pani se / say istinja lazim hay ya nahi?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.